کالم

ٹڈی دل کی تباہ کاریاں

پاکستان بنیادی طور پرایک زرعی ملک ہے اسکی معیشت کا دارومدارزراعت پر ہی ہے لیکن یہ زمینی حقیقت ہے کہ کسان اور زراعت کسی بھی حکومت کی ترجیح میں شامل نہیں رہے۔وطن عزیز میں خریف کا سیزن ہونے کے باعث جہاں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہے وہاں لاکھوں ایکڑ اراضی پر کپاس، مکئی،کماد، سورج مکھی، سبزیاں اور باغات اپنی اپنی بہار دکھا رہے ہیں لیکن بد قسمتی سے یہ سب علاقے ان دنوں ٹڈی دل کے حملو ں کی زد میں ہیں۔یہ اطلاع انتہائی افسوس ناک ہے کہ ملک کے بیشتر اضلاع میں ٹڈی دل نے دو بارہ حملے کر کے فصلوں کو شدیدنقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں گندم، آم اور کپاس کے باغات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ٹڈی دل کے حملوں نے پہلے ٹماٹر کی فصل پر حملہ کیااور یوں ٹماٹر کی فصلیں تباہ ہو گئیں جس کے باعث شدید قلت پیدا ہونے کی وجہ سے اسکی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک نہایت سنگین صورت حال ہے اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو فوڈ سیکیورٹی میں ملک کو 669 ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ ٹڈیاں افریقی ممالک ایتھوپیا، صومالیہ، یمن، سعودی عرب اور عمان سے ہوتی ہوئی ایران کے راستے بلوچستان میں آئیں اور وہاں سے سندھ پر حملوں کے بعد پنجاب میں داخل ہوئیں اور فصلوں کی بربادی کا باعث بنیں،چند ماہ قبل یہ ٹڈیاں سندھ کے علاقوں گھوٹکی اور کشمور میں داخل ہوئی تھیں۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ رواں سال جون اور وسط جولائی میں ٹڈی دل کے بڑے حملے کا خطرہ ہے کیونکہ اس وقت ٹڈی دل اپنی افزائش ِ نسل کے دور سے گزر رہا ہے۔
تازترین صورتحال کے مطابق تمام صوبوں کی انتظامیہ کی جانب سے ناکافی اقدامات کے سبب کسان شدید گرمی کے باوجودہاتھوں میں تھال اور پانی کی بوتلیں لیے اپنی مدد آپ کے تحت ٹڈیاں بھگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جو کہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے۔ دراصل ٹڈیوں کے خاتمے کے لیے مختلف اضلاع میں اسپرے اس مسئلے کا حل تھالیکن بد قسمتی سے مطلوبہ مقدار میں اسپرے نہیں کیا گیا، پھر کورونا وائرس کی وباءکے باعث وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس مسئلے کو نظر اندار کر دیا لیکن ٹڈی دل کے دوبارہ خطرناک حملوں نے اس صورتحال کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
ٹڈی دل کو بعض لوگ کورونا سے زیادہ خطرناک قرار دے چکے ہیں کیونکہ اگر صورتحال ایسی ہی رہتی ہے تو ملک میں شدید غذائی قلت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ کسان معاشی طور پر بد حال ہو جائیں گے، اگر ٹڈی دل کو ختم نہیں کیا گیا تو نہ صرف فصلیں برباد ہوجائیں گی بلکہ ملکی معیشت کو بھی
نا قا بلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔
گزشتہ برس بھی ٹڈی دل نے بہت سے علاقوں میں فصلوں کو نقصان پہنچایا تھا جبکہ موجودہ یلغار کی شدت اس سے کہیں زیادہ بیان کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ لہر آئندہ دو سال تک جاری رہ سکتی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹرر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اس حوالے سے متاثرہ علاقوں میں آپریشن میں مصروف ہے، متعلقہ متاثرہ علاقوں کے کسانو ں کے لیے ہاٹ لائن قائم کر دی گئی ہے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق اس وقت ملک کے 61 اضلاع میں ٹڈی دل موجود ہے جس کے خاتمے کے لیے چاروں صوبوں میں اسپرے کا کام جاری ہے۔ پاکستان میں چین کے پہلے زرعی سفارتکارنے ٹڈی دل کے تدارک کے لیے پاکستان کے ماہرین کے ساتھ ملکر تمام تکنیکی وسائل استعمال کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جس سے نہ صرف موجودہ حالات بہتر ہوں گے بلکہ مستقبل میں بھی ٹھوس نتائج سامنے آئیں گے۔
یہ ایک خوش آئند بات ہے چونکہ چین سب سے وسیع زرعی ٹیکنالوجی، سب سے وسیع زرعی رقبے اور سب سے زیادہ پیداوار کا حامل ملک ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1949 میں اس کی غذائی پیداوار جو گیارہ کروڑ ٹن سالانہ تھی آج یہ 50 کروڑ ٹن سے زیادہ ہے، ہمیں اس کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
ہمارے اربابِ اختیار اگر یہ سوچ اپنا لیں کہ ٹڈی دل سے ہمیں فصلوں کو ہر حال میں بچانا ہے اس کے لیے چاہے جس ملک سے بھی مد د ملے ہم لینے کو
تیا ر ہیںتو صورتحال میں بہت بہتری آ جائے گی ،لہذا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے حکام بالا ایک دوسرے پر الزام تراشی کی روش ترک کرتے ہوئے فوری طور پر متاثرہ فصلوں پر سپرے کروانے کے اقدامات جنگی بنیادوں پر کریں۔ تاہم حکومت ٹڈی کے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے تمام تر توجہ فضائی اسپرے پر دے اور اسکے ساتھ ساتھ زمینی طرز پر بھی زیادہ سے زیادہ اسپرے کو یقینی بنائے تو ٹڈی دل سے بچاو ملک میں ممکن ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button