کالم

کورونا وائرس میں پی آئی اے کی خدمات

پی آئی اے پاکستان کی سب سے بڑی اور قومی ائیر لائن ہے جو تقریبا 23 اندرونِ ملک اور 30 سے زائد بیرون ممالک میں پروازیں چلاتی ہے جو ایشیائی، یورپ اور جنوبی امریکا تک جاتی ہیں۔ پی آئی اے تیس سے زائد جہازوں کے ساتھ پاکستان کی سب سے بڑی اور قومی ائیر لائن ہے جو کہ ایک وسیع تر تاریخ رکھتی ہے، یہ ایشیاءکی پہلی ائیر لائن ہے جس نے جیٹ انجن والے بوئنگ737 جہاز چلائے، اس کے ساتھ ساتھ یہ دنیا کی پہلی ائیر لائن ہے جس نے بوئنگ 200-777 ایل آر جہازحاصل کئے اور چلائے۔ پی آئی اے جو پاکستان کی آزادی سے پہلے 1946میں ابتدائی طور پر اوریئینٹ ائیر ویز کے نام سے بنی ایک وسیع تر تاریخ رکھتی ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کارپوریشن لمیٹڈبنیادی طور پر حکومت کی ملکیت ہے مگر اس میں نجی شعبے کے بھی 13 فیصد حصص ہیں۔ ماضی میں پی آئی اے کا ادارہ منسٹری آ ف ڈیفنس کے ماتحت کام کرتا تھا مگر اب اسے ایوی ایشن ڈویژ ن کے تحت کر دیا گیا ہے، ائیر لائن کا ایک چئیرمین اور ایک ایم ڈی ہوتا ہے دونوں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ہدایات کے مطابق کام کرتے ہیں، تمام تر انتظامی امورکی نگرانی ایم ڈی کرتا ہے۔ کمپنی کامرکزی دفتر کراچی جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ہے۔
چین سے پھیلنے والا خطرناک کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیل چکا ہے، پاکستان میں بھی کورونا نے سپیڈ پکڑی ہے، دنیا کے کئی ممالک نے لاک ڈاون لگایااور فضائی پابندی لگائی پاکستان نے بھی قومی و انٹرنیشنل پروازوں پر پابندی عائد کی،لاک ڈاون کی وجہ سے بیرون ملک میں ہزاروں پاکستانی پھنس چکے تھے، جن کا روزگار ختم ہو چکا تھا اور وہ پاکستان واپس آنا چاہتے تھے،بیرون ممالک میں پھنسے پاکستانیوں نے وطن واپسی کی اپیل کی تو پاکستان کی قومی ائیر لائن پی آئی اے اپنے ہم وطنوں کو واپس لانے کے لیے میدان میں آئی، پی آئی اے نے مختلف ممالک میں خصوصی پروازوں کا آغاز کیا جو ابھی تک جاری ہے اور بیرون ملک میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لا رہی ہے۔
کورونا وائرس کی بحرانی کیفیت میں بیرون ممالک میں محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کیلیے جامع،مربوط منصوبہ بندی کی گئی، مشیر قومی سلامتی خارجہ ایوی ایشن اور سمندر پار پاکستان کی وزارتوں کی مشترکہ کاوش سے محنت کشوں، قیدیوں،زائرین، جاں بحق افراد کے لواحقین، زائد المعیادیا محدود ویزہ دورانیہ والوں کی واپسی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دنیا میں لاک ڈاون سفری پابندیوں کے باوجود گلف، برطانیہ، آسٹریلیا، ملائیشیاسمیت 38 ممالک سے ہزاروں پاکستانی اپنی سر زمین پر پہنچے، 21 مارچ کو پروازوں کی بندش کے باوجودشروع میں پہلے ہفتے 2 ہزارپھر بتدریج اضافے سے ہر ہفتے 6 سے 7 ہزار پاکستانی بتدریج واپس لائے گئے، بین الاقوامی ہوائی اڈے بند پروازیں معطل، پھر بھی مزید ممالک سے پاکستانی شہری لائے جا رہے ہیں۔
پی آئی اے کا عملہ موذی وائرس کے خطرے کے باوجوداس مشکل صورتحال میں صف اول کا کردارادا کر رہا ہے۔ وزیر ہوا بازی غلام سرورخان کی کوششوں سے وطن واپسی کے خواہشمندپاکستانیوں کے لیے خصوصی پروازیں چلانی ممکن ہوئیں۔پی آئی اے نے بیرون ممالک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے 4 اپریل سے اپنی فلائٹس کا آغازکیا،محدود پیمانے پر اسلام آباد کو ائیر ٹریفک کے لیے کھولا گیا اور پی آئی اے پر مسافروں کی تعدادکے حوالے سے پابندیاں عائد کر دی گئیں۔اس وقت وطن واپسی کے خو اہشمند تقریباََ90 فیصد پاکستانی خلیجی ممالک میں ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات میں 69 ہزار695، سعودی عرب میں 15 ہزار594، قطر میں 5ہزار 5 سو رجسٹرڈ پاکستانی واپسی کے منتظر ہیں، مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زیادہ پاکستانی سفارتی مشنز کیساتھ رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وطن واپسی کے خواہشمندمعیارپر پورااترتے ہیں تو سفارتحانوں کیساتھ رجسٹرڈہوں۔بیرونِ ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کوپروازوں کے حتمی شیڈول سے آگاہ کرنابھی ممکن نہیں کیونکہ متعلقہ ممالک میں ہوائی اڈے بند، پروازیں معطل ہیں۔ کوئی بھی ملک کسی بھی وجہ سے خصوصی پروازمنسوخ یا معطل کر سکتا ہے لہذا شیڈول میں تبدیلی بھی متواتر ہے،دوسری جانب حکومت نے بیرون ملک جانے والی پروازں پر کوئی سختی نہیں کی،پاکستان اپنے کچھ فلائٹ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے اورپاکستان سے کئی ممالک خصوصی پروازوں سے اپنے شہری بھی واپس لے کر جارہے ہیں۔کورونا وائرس کی وجہ سے جہاز کے عملے اور مسافروں کی تعداد ایک خاص حدسے آگے نہیں جاسکتی حکومت کی جانب سے بیرونی ممالک میں پاکستان کے سفیراور ہائی کمیشنرپھنسے ہوئے مسافروں کی ترجیحی فہرست ترتیب دینے کے ذمہ دار ہیں، اس ضمن میں متعلقہ اداروں اور بیرون ملک پاکستانی سفارتحانوں کو مربوط، جامع اور قابلِ عمل ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں۔ موذی وائرس سے جنگ میں مصروف ڈاکٹرز، طبی عملہ، قانون نافذکرنے والے اداروں اور سول انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ حکام کی شب وروزکاوشوں کے نتیجے میں ٹیسٹنگ اور قر نطینہ کے انتظامات میں اضافہ کیا گیاجس کے باعث مزید پاکستانیوں کی وطن واپسی ممکن ہوسکی ہے۔
دنیا بھر میں پھیلے کورونا وائرس کی وجہ سے 2020 ایئر لائن انڈسٹری کے لیے تباہ کن سال ہے، سینکڑوں ایئر لائنزبند ہونے جا رہی ہیں جسکی صورتحال ہمارے سامنے آنا شروع ہو چکی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں ائیر لائن کمپنیاں نہ صرف ملازمین کو فارغ کر رہی ہیں بلکہ اپنے طیارے بھی گراو¿نڈ کر رہی ہیں، اپنے حریف ملک کو ہی دیکھ لیں وہاں کی ائیر لائن کی صنعت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے جبکہ برٹش ائیر ویز نے 34 جہاز گراو¿نڈ کر دئیے ہیں اور جس ملازم کی عمر 58 سال سے زیادہ تھی اسے جبری ریٹائر کر دیا گیا ہے۔بات کی جائے اگر پاکستان کی تو پاکستان اس وقت بڑی آئیڈیل پوزیشن میں ہے اگر پاکستان سول ایویشن اتھارٹی کوئی بہتر پالیسیز بنائے تو اسوقت پی آئی اے دنیا بھرمیں بہترین مقام حاصل کر سکتی ہے، کیونکہ کورونا وائرس کے پیشِ نظر پی آئی اے نے امریکہ کے لیے بھی خصوصی پروازوں کا آغاز کر دیاہے، اور یہ تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ پی آئی اے کی پرواز براہ راست امریکہ گئی ہو، یقیناََ یہ پاکستان کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔آسٹریلیانے بھی اپنی پہلی فلائٹ کا آغاز کر دیا ہے جس سے نارتھ اور ساوتھ کے روٹس بڑے شاندار نظر آرہے ہیں۔ اگر حکومت ذاتی دلچسپی سے روٹس خریدتی ہے اور کراچی، اسلام آبادسے سنٹرل یورپ کوکونیکٹ کرتی ہے تواسے سنہری موقع کے تحت یہ فلائینگ روٹس مل بھی سکتے ہیں،نئے روٹس خریدنے کے بعد اگر سول ایوی ایشن میں ایسے لوگ آ جائیں جو پاکستان کے لیے محنت کریں تو ایوی ایشن میں ہمارا بہت بہتر مستقبل سامنے آ سکتا ہے۔ پی آئی اے اس مشکل وقت میں جو کام کر رہی ہے ایسے میں پی آئی اے کے عملے کو یقینی طور پر سلیوٹ بنتا ہے جو اپنی جانوں پر کھیل کر اپنے ہم وطنوں کو واپس لا رہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button