کالم

پاکستان کو جرمنی کے تجربات سے سبق سیکھنا ہوگا

ملکِ پاکستان کو آزاد ہوئے 73 برس بیت گئے، قوموں کی زندگی میں یہ کوئی چھوٹا عرصہ نہیں ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ ان برسوں میں ہم نے ترقی کی منازل طے کرنے کی بجائے تنزلی کا سفر ہی طے کیا۔ کون سا نظام ہے جسکا تجربہ ہم نے اس ملک پر نہیں کیا۔ صدارتی نظام ہم نے بھگتا ہے، پارلیمانی نظام ہم چلا رہے ہیں یہ الگ بات ہے کہ وہ برائے نام ہی ہے۔ مارشل لاء نے یہاں راج کیا جبکہ سول و ملٹری بیورو کریسی نے ہمیشہ پردے کے پیچھے سے حُکمرانی کی ہے۔ مگر آخر کیا وجہ ہے کہ ہر بار ہم اوپر جانے کی بجائے نیچے جا رہے ہیں؟ ہماری جی ڈی پی گِر رہی ہے اور ہم اسلحہ کی تیاری اور فروخت پر زور دے رہے ہیں۔ عوام کو بنیادی ضروریات میسر نہیں ہیں۔ ہماری یونیورسٹیاں جو ریسرچ کر رہی ہیں وہ صرف کتابوں تک محدود ہے۔ ہمارے پولیٹیکل سائنٹسٹ قوم کے درپیش مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہم نے کسی دوسرے کے تجربے سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کی ۔ ہمارے بعد آزاد ہونے والے ہم سے کوسوں دور آگے
نکل گئے حتیٰ کہ بنگلہ دیش جو 1971 میں ہم سے آزاد ہوا اس کا ٹکا ہم سے بھاری ہے اب وہ بھوکے ننگوں کا ملک نہیں رہا جبکہ ہمارے ملک میں غربت و افلاس کے مارے لوگوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
1947 میں جب ہم آزاد ہوئے تو جرمنی اس وقت شکست خورد قوم تھی ، دوسری جنگِ عظیم نے قوم کو تباہ کر دیا تھا ۔ اتحادیوں نے جرمنی کی قوت کو ختم کرنے کے لئے اسکے حصے کر دئیے۔ ایک طرف سوویت یونین کی عملداری تھی تو دوسری طرف امریکہ برطانیہ اور فرانس جرمنی کی قسمت کا فیصلہ کر چکے تھے۔ برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ممالک کسی بھی طور پر جرمن کو با اختیار بنانے کے لئے تیار نہیں تھے کہ ایسا کرنے کی صورت میں جرمنی سے یورپ کو ایک بار پھر خطرہ لا حق رہتا۔ ان مشکل حالات میں بھی جرمنی نے نیم خود مختاری سے مکمل خود مختاری کا سفر طے کیا اپنے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو ختم کیا, عوام کو حوصلہ دیا اور سب نے ملکر جرمن قوم کی تعمیر و ترقی کا آغاز کیا۔ اس ہمت کی بدولت ہی جرمنی چند برسوں میں ایک بار پھر یورپ کی قیادت کرنے کے قابل بن گیا۔ دوسری جنگِ عظیم نے انفراسٹرکچر بُری طرح تباہ کر دیا ،سوویت یونین اسکی انڈسٹری کو اٹھا کر روس لے گیا اور اتحادیوں نے جرمنی کو مجبور کیا کہ وہ فرانس کو مفت کوئلہ فراہم کرئے۔ اتحادی ممالک کی فوج بڑی تعداد میں جرمنی میں تعینات تھی۔ ان حالات کے باوجود تعمیر نو کا کام شروع ہوا۔ جرمن قوم نے اپنے معاشرے سے نازی ازم کی باقیات کا صفایا شروع کیا۔ اتحادیوں اور خاص طور پر امریکہ نے جرمن معاشرے کی تشکیل نومیں اہم کردار ادا کیا۔ لاکھوں افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلے اور سزائیں سنائی گئیں ۔ اتحادی فوجیوں کی تعداد میں آہستہ آہستہ کمی آنا شروع ہوئی کیونکہ امریکہ میں یہ تحریک چل رہی تھی کہ ہمارے فوجیوں کو واپس لاو۔ ہالینڈ، برطانیہ اور فرانس کی مخالفت کے باوجود امریکہ نے جرمنی کو خود مختاری دے دی۔
پاکستان اور جرمنی میں کئی مماثلتیں موجود ہیں۔ امریکیوں نے یورپ میں سوویت یونین کے پھیلاوّ کو روکنے کے لئے جرمنی کا استعمال کیا۔ جبکہ ایشیائی خطے میں امریکہ نے سوویت یونین کے پر کاٹنے کے لئے پاکستان کا انتخاب کیا۔ پاکستان کی مدد سے سوویت یونین کو افغانستان سے نکال دیا پھر کیا وجہ تھی کہ پاکستان ابھی تک افغانستان کے مسائل سے الگ نہیں ہو سکا اور ہمارا معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکا جبکہ جرمنی کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔ شاید اسکی ایک وجہ یہ تھی کہ ہم نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ چلنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ہم مصلحتوں کا شکار ہوئے۔
ایک طرف ہم اتحادیوں کی مرضی اور منشا پوری کرنے میں لگے ہوئے تھے اور دوسری طرف ہم نے ان لوگوں کو بھی پناہ دےرکھی تھی جو ان کے خلاف تھے جسکا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑا۔ آج ہم سے زیادہ افغانستان کے طالبان معتبر ہیں، کوئی ہم پر اعتماد اور بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ جرمن معاشرے نے یک سو ہو کر کام کیا اور ہم نے معاشرے کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ جرمنی کے سیاستدانوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا اور ہمارے سیاستدان غلطی در غلطی کرتے رہے۔ سیاستدانوں نے ایک دوسرے سے انتقام لینے کے لئے قومی مفادات کو بُھلا دیا۔
آج جرمن قوم اپنے اتحاد پر فخر کر رہی ہے کہ انہوں نے اس اتحاد کے تحت باوقار قوم کے طور پر اپنا مقام پیدا کیا۔ آج ہم بھی اگر ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں تو معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ جرمنی پاکستان اور افغانستان کی تعمیر نو کے کئی منصوبوں پر کام کر رہا ہے لیکن سب سے اہم کام یہ ہے کہ ہم سیاسی معاشی اور اقتصادی میدان میں ان سے قریبی تعاون بڑھائیں اور خاص طور ہر تعلیم کے شعبے میں ان کی مہارت کو بروّے کار لا کر اپنی قوم کو آگے بڑھنے کی دعوت دیں۔
بقلم: کاشف شہزاد

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button