کالم

‎عزیر بلوچ کا خونی کھیل اور ہماری جے آئی ٹی رپورٹ

سندھ حکومت کی جانب سے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ، سانحہ بلدیہ ٹاﺅ ن آتشزدگی اور ڈاکٹر نثارمورائی کے متعلق جوائنٹ انوسٹی گیشن رپورٹس عام کر دی گئی ہیں۔ اس جے آئی ٹی رپورٹ میں کئے گئے انکشافات جہاں ملکی سلامتی اور امن کو درپیش خطرات کے حوالے سے مختلف تشویشناک پہلوﺅں کا احاطہ کرتے ہیں، وہیں یہ بات بھی واضح طور پر عیاں ہوئی ہے کہ کس طرح محکموں میں سیاسی مداخلت و اثر رسوخ جیسی قباحتیں ملکی انتظامی ڈھانچے کو کمزور کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ بلدیہ ٹاﺅن سانحہ پر 27صفحات پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بلدیہ فیکٹری کا واقع آتشزدگی نہیں بلکہ دہشتگردی تھا، اتنے برسوں کے بعد جے آئی ٹی رپورٹ وہ سچ سامنے لے آئی جو ملک کا ہر فرد پہلے سے جانتا تھا۔کیا اس جے آئی ٹی کی تحقیقات اور سفارشات کی بنیاد پر ہمارے پولیس نظام میں کوئی تبدیلی آئے گی؟ کیا نامزد ملزمان کو عبرتناک سزا ہو گی؟ کیا اس گھناﺅنے جرم کے اصل سرغنہ تک پاکستان کے قانونی اداروں کے ہاتھ پہنچ پائیں گے یہ سب بہت مشکل اور پچیدہ سوالات ہیں جن کے جوابات ایک ایسے معاشرے میں تو مل سکتے ہیں جہاں واقعی قانون انصاف اور سچ کی حکمرانی ہو۔ لیکن ہمارے جیسے معاشرے میں جہاں چور اور چوکیدار محافظ، ظالم قاتل اور مسیحا میں فرق کرنا مشکل ہو وہاں 27 صفحات کی ایسی جے آئی ٹی رپورٹیں کچھ دن تو میڈیا پر چھائی رہیں گی اور بحث و مباحثہ کا حصہ بھی بنیں گی مگر پھر بھلا دی جائیں گی، شائد اس جے آئی ٹی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہونے والا ہے۔
یہ امر واضح ہے کہ سندھ حکومت نے سانحہ بلدیہ ٹاﺅن کے سات آٹھ سال بعد حقائق سامنے لا کر کوئی انوکھا کام نہیں کیا جو پورا شہر کراچی پہلے سے جانتا تھا کہ بلدیہ ٹاﺅن کی فیکٹری میں آگ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ دہشت گردی کی گئی تھی۔ یہ جیتے جاگتے 260انسانوں کو زندہ جلا دینا انہی کا کارنامہ ہے۔ جنہوں نے اس شہر میں برسوں سے قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ بوری بند لاشیں، بھتہ خوری، زمینوں پر قبضے, چائنا کٹنگ یہ سب اسی پریشر گروپ کا کام ہے جو ایک سیاسی جماعت کا روپ دھارے اور سیاستدانوں کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہر حکومت کا حصہ ہوتی ہے اور طاقت دھونس اور دھاندلی سے ہر حکومت سے اپنا حصہ کسی بھتے کی طرح وصول کرتی ہے۔ یہ سیاسی جماعت ایک نئے لبادے میں آج بھی حکومت کا حصہ اور ایوان اقتدار کی مجبوری بنی ہوئی ہے اور عوام کے سامنے ہاتھ جوڑ کر انکے حقوق دلانے کی بات کرتی ہے۔
سانحہ بلدیہ ٹاﺅن پر بننے والی جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ میں جو سال ہا سال کی تحقیق کے بعد منظر عام پر آیا، کیا وہ ہمارے لیے کوئی نیا انکشاف ہے  ہر پاکستانی اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کہ اس جے آئی ٹی رپورٹ میں ہمارے پولیس سسٹم میں موجود جن بڑی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے کیا یہ واقعی کوئی خوشربا قسم کی تحقیق ہے کون نہیں جانتا کہ سال ہا سال سے سیاسی جماعتوں کی کھینچا تانی نے اس شہر کی خوبصورتی اور امن کو گرہن لگایا ہوا ہے، انہی سیاسی جماعتوں نے امن نافذ کرنے والے اداروں کو نہ صرف سیاست سے آلودہ کیا بلکہ پولیس افسران کو بھی اپنا بنایا ہوا ہے، حسن کرشمہ سازی کا یہ کھیل برسوں سے اس شہر میں کھیلا جا رہا ہے۔ مفاد پرستی کی جنگ زمینوں پر قبضوں اور بھتہ خوری سے لیکر ہر قسم کی حرام خوری تک صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں بلکہ پورے کا پورا سسٹم ہی سیاستدانوں کے روپ میں موجود ان ظالموں کی دہلیز پر پڑا رہا ہے۔
ملک میں لیاری گینگ وار یا سانحہ بلدیہ ٹاﺅن جیسے واقعات سیاسی قائدین کی پشت پناہی اور قانون کے رکھوالوں کی ملی بھگت کے بغیر نہیں ہوسکتے، کراچی میں کون ہے جو عزیر بلوچ سے لیکر اصغر بھولا، حماد صدیقی اور اور ڈاکٹر نثار مورائی کے کارناموں سے واقف نہیں، عوامی نمائندے جے آئی ٹی سے زیادہ بہت کچھ بتا چکے ہیں جو جے آئی ٹی کے صفحات میں موجود نہیں، اسی لیے وفاقی وزراءنے نامکمل رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے بطور ثبوت اصل رپورٹ پیش کر دی۔
ہمارے ہاں ستم ظریفی کی بات ہے کہ حادثات کے پیچھے دہشت گردی کروائی جاتی ہے اس کے بعد جے آئی ٹی پر جے آئی ٹی بنتی ہیں اور بعد ازاں منظر عام پر لائی گئی رپورٹ سے بھی حقائق چھپائے جاتے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کون سے طاقتور لوگ عوام سے حقائق چھپانا چاہتے ہیں؟ حکومت اور متعلقہ ادارے سب کچھ بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ سانحہ بلدیہ ٹاﺅن ہوئے سات آٹھ سال گزرنے کو ہیں اور جاں بحق ہونے والوں کو انصاف کا نہ ملنا حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی ناکامی کا ثبوت ہے۔
میرے خیال سے اصل جے آئی ٹی رپورٹ ملاحظہ کرتے ہوئے حکومت اس امر کو یقینی بنائے کہ جو تحقیقات پیش کی گئی ہیں اس کے مطابق ملزمان کو سزا دلانے کے لیے مفلوج نظام کو فعال بنایا جائے۔ اور جس جگہ حکومتی توجہ سے اصلاح احوال کی گنجائش ہے وہاں خرابیاں دور کرنے کے لیے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
بلاشبہ جے آئی ٹی رپورٹس حقائق تک غیر جانبدارانہ رسائی کا ذریعہ ہیں لیکن ان رپورٹس میں پیش کئے گئے حقائق کا بڑا حصہ طاقتور ملزمان اور انکے سر پرستوں کے اثر رسوخ سے محفوظ سمجھا جانا ہے اس لیے جب عوامی حلقے پولیس اور مقامی انتظامیہ کی بجائے کسی اہم معاملے میں جے آئی ٹی کی تشکیل دینے کامطالبہ کرتے ہیں تو اس کے پسِ پردہ انکا بھروسہ محرک کا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے
میرے خیال سے پاکستان میں کوئی ایسی طاقت نظر نہیں آتی جو سانحہ بلدیہ فیکٹری کے متاثرین کو انصاف دلوا سکے، کسی جے آئی ٹی، کسی پولیس تحقیقاتی ادارے میں یہ قوت نہیں کہ مجرم کوسزا دلوا سکے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بااثر گروہوں کے سامنے مفلوج ہو چکے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button