کالم

ظالم کی ذات نہ مذہب نہ کوئی قوم 

عورت جسے اسلام نے خاص مقام و مرتبہ دیا اور ہر روپ میں اسے باعث عزت بنایا اور بلند مقام دیا .یہ وہی عورت ہے جو گھر میں ماں ، بیٹی ، بیوی ، بہن وغیرہ کے روپ میں خوشیاں بکھیرتی ہے جس کے دم سے کائنات میں رونقیں ہیں .مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا لکھتے ہوئے ہاتھ کپکپاہٹ کا شکار ہیں اور آنکھ نم ہے دل میں ویرانی سی ہے کہ آج عورت کی عزت کو پل بھر میں پامال کیا جاتا .ایک اسلامی ملک ہو یا غیر اسلامی ہر جگہ عورت کو درندگی کا نشانہ بنایا جاتا اور ہوس کا بچاری حیوان جو انسانی شکل میں ہے عورت کے جسم کو نوچ رہا اور ہم صرف سوشل میڈیا کی حد تک مذمت کرتے .

    دین اسلام ہمارے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں جانوروں پر بھی رحم کا حکم دیا گیا ہے اور ہر مرد ہو یا عورت اس کی عزت نفس کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے .جو اپنے لیے پسند کرو وہی دوسرے مسلمان کے لیے بھی پسند کرو کیا یہ درندے اپنی ماوں ، بیٹیوں اور بہنوں کو بھی دوسرے درندے کی نظر کرتے ہیں ؟ کیا یہ ان کے لیے بھی یہی پسند کرتے ہیں ؟ آہ انسان  آہ کیا مقام و مرتبہ تھا تیرا اور تو خاک میں مل گیا ہے .اور یہ ظالم اور کوئی نہیں اپنا مذہب اسلام بتاتے اپنی قوم اسلامی جمہوریہ پاکستان بتاتے اپنے نام کے ساتھ اس مبارک ہستی کا نام لکھتے جس کے قدم سے اٹھنے والی خاک کے برابر بھی نہیں یہ . ایسے ظالم کا نہ تو کوئی ذات ہے نہ مذہب اور نہ ہی قوم یہ صرف عذاب کے مستحق ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی .

    سانحہ موٹروے لاہور جہاں معصوم بچوں کی جنت کو سرراہ ان کے سامنے نوچا گیا اس کی عزت کو پامال کیا گیا. ایک پہاڑ سے گرا ہوا شخص دوبارہ اٹھ سکتا ہے مگر کسی کی نظروں سے گرا شخص کبھی نہیں اٹھ سکتا .اور یہ ظالم بھی خود کو مرد کہتے مگر یہ مرد نہیں یہ تو ان جانوروں سے بھی بدتر ہیں جن کا نام لینے سے بھی زبان ناپاک ہو جاتی ہے .ایسے واقعات آئے روز سننے میں آہ رہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا کہ ملزم جرم کے بعد فرار ہو جاتا اور ہم ایک دوسرے پر تنقید کرنے میں مصروف رہتے .کچھ ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد معمولی سزا ہوتی پھر چھوڑ دیا جاتا ہے .اختر مسلمی کاشعر یاد آ گیا

    انصاف کے پردے میں یہ کیا ظلم ہے یارو

     دیتے ہو سزا اور خطا اور ہی کچھ ہے

 کشمیر فلسطین اور دیگر مسلم محکوم ممالک میں آج حق خودارادیت کے لیے نکلنے والی بے بس و لاچار عورت کو بھی ہوس کا نشانہ بنایا جا رہا مگر ان کی آہ و بکا سننے والا کوئی نہیں ہے .دنیا میں بہت سے واقعات ایسے آ رہے جس میں عورت کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کر کے گندگی کی جگہ پر پھینک دیا جاتا اور ہم صرف مذمت کر رہے ہوتے . ایسے ایسے واقعات سننے میں آتے جن سے آنکھ نم ہوجاتی کان سننے سے انکار کر دیتے زبان سے لعنت کے الفاظ نکلنا شروع ہو جاتے ہاتھ لکھتے ہوئے کپکپانا شروع ہو جاتے مگر ہمارا ضمیر پھر بھی سویا رہتا ہم اپنی گھر کی عزت کو اپنی عزت سمجھتے دوسرے کی عزت کو ہم اپنی عزت نہیں سمجھتے جس سے ایسے واقعات ہو رہے . ہمارے حکمران بھی سوئے ہوئے ہیں کوئی قوانین کی پاسداری کو یقیی نہیں بنا رہاکیوں کہ ان کی عزتیں محفوظ ہیں جب ان کی عزت کے ساتھ ہاتھ لگایا جائے گا تب ان کا ضمیرجاگے گا اور ان کو بہ روز محشر جواب دینا ہو گا کہاں تھے یہ جب عورت کی عزت کو پامال کیا جا رہا تھا اور ملزم آسانی سے فرار ہو رہے تھے .اور یقینا اس کی سزا و جزا ضرور ہو گی .

  کافر کی حکومت تو رہ سکتی ہے مگر ایک ظالم کی نہیں .وقت آئے گا جب ان درندوں کو حساب دینا ہو گا کیوں کہ

رہے گا ظلم کب تک کبھی تو آغاز باب ہو گا

جنھوں نے بستی اجاڑ ڈالی کبھی تو ان کا حساب ہو گا

  ان درندوں کو عبرت ناک سزا دی جائے جب جرم سرعام ہوا تو سزابھی سر عام ہونی چاہیے کیوں کہ یہاں ہر روز انسانیت کا قتل ہو رہا اور انسان ہی دوسرے انسان کو نقصان پہنچا رہا .

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button