پاکستان

لاہور ہائیکورٹ نے انٹرنیشنل پورنوگرافی کے گروہ میں ملوث سعادت امین کو ضمانت پر رہا کردیا

ایف آئی اےکے سائبر کرائم سیل کو  2017 میں نارویجین سفارتخانے سے سعادت امین کے خلاف شکایت موصول ہوئی۔ چھاپہ مارنے پر امین کے قبضے سے چائلڈ پورنوگرافی کی 6 لاکھ 50 ہزار سے زائد تصاویر اور ویڈیوز برآمد ہوئیں۔ سعادت امین  کو فوراً چائلڈ پور نو گرافی کے ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش کے دوران مجرم کا تعلق انٹرنیشنل چائلڈ پورنو گرافی کے ایک گروہ سے پایا گیا۔

ایف آئی اے کے تفتیش کے نتائج میں عدالت کو بتایا گیا کہ  مجرم کے بین الاقوامی چائلڈ پورنوگرافر جس میں سویڈن میں جان لِنڈاسٹروم، اٹلی میں جیووانی بیٹوٹی، امریکا میں میکس ہنٹر، برطانیہ میں اینڈریو مووڈی اور مختار سے تعلقات ہیں۔ مجرم کے خلاف 11 گواہوں کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ سرگودھا نےمجرم کو 26اپریل 2018 کو الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت 7سال کی قید اور12 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ مجرم کے وکیل رانا ندیم احمد نے لاہور ہائیکورٹ میں فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی اور ایجینسیوں کی گئی تحقیقات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اعتراضا ت اُٹھاۓ۔ مزید مجرم کے وکیل رانا ندیم احمد نے عدالت میں زور دیا کہ مجرم کو غیر ملک سے بھیجی گئی رقم چائلڈ پورنوگرافی کے عوض نہیں تھی۔اُنہوں نےعدالت سے استدعا کی کہ سعادت امین کی سزا کو معطل کرتے ہوۓ ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی جاۓ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے مجرم کی سزا کو معطل کرتے ہوئے 2 لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچکلوں کے عوض ضمانت منظور کرلی اور مجرم سعادت امین کو رہا کر دیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button