کالم

طارق عزیز کو آخری اخراجِ عقیدت

اچھی آوازانسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص انعام ہے، اچھی آواز کی بدولت کئی لوگ دنیا میں نام کما گئے، پاکستان کا ایک نام جسے لوگ طارق عزیز کے نام سے جانتے ہیں ان خوش نصیب لوگوں میں سے ایک نام ہے جسے قسمت نے فٹ پاتھ سے اٹھا کر پارلیمنٹ میں بٹھا دیا۔ یہ انکی آواز ہی کا کمال تھا۔ 1960 میں ریڈیو پاکستان لاہور انارکلی ڈرامہ تیا ر کر رہا تھا اتفاق سے کسی جاننے والے کے ساتھ ریڈیو پاکستان لاہور آئے، ایک معمولی کردار کے لیے ایک آواز کی ضرورت تھی،ڈرامہ پروڈیوسر نے جب طارق عزیز کی آواز سنی تو بہت متاثر ہوئے انہوں نے انارکلی کے سکرپٹ کی چند لائنیں بولنے کے لیے کہا، طارق عزیز نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ چند الفاظ ریڈیو کے مائیک پر بولے اور پھر ریڈیو کے ہی ہو کر رہ گئے۔150روپے ماہانہ کمانے والا طارق عزیزایک دن دس لاکھ کمانے والا آرٹسٹ بن گیااور ایک ایک منٹ کا معاوضہ وصول کرنے والا مہنگا ترین آرٹسٹ بن کر ابھرا، محنت اور لگن نے اسے پوری دنیا میں مقبول ترین اینکر پرسن بنا دیالیکن اتنی شہرت کے باوجود انکی عاجزی میں کبھی فرق نہ پڑا۔
تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی بڑے سے بڑے فنکار،اداکار، صداکار، صحافی، گلوکار،نعت خوان، قلم کار،ادیب کی کامیابی کے پیچھے آپ کو ریڈیو پاکستان کا کردار نظر آئے گا، ریڈیو پاکستان نے ایسے ہیرے تراشے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنا بلکہ ملک کا نام بھی دنیا کے کونے کونے میں روشن کیا۔ طارق عزیز کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں ریڈیو پاکستان کا کردار نمایاں جھلکتا ہے۔ طارق عزیز پاکستان کے واحد کمپئیر تھے جنہیں بہت سی زبانوں پر عبور حاصل تھا، پاکستان میں جب 1964 میں ٹیلی ویژن متعارف ہوا تو ریڈیو پاکستان کے تربیت یافتہ صدا کاروں اور فنکاروں نے اپنے فن کے جوہر دیکھائے، طارق عزیز پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے نیوز کاسٹر اور اناونسر تھے نیوز کاسٹنگ سے پی ٹی وی سے آغاز کرنے والے طارق عزیز نے مسلسل 30سال تک ایک پروگرام نیلام گھربعد میں جسے طارق عزیز اور بزمِ طارق عزیز کا نام دیا گیا تھا اس پروگرام کی میزبانی کے فرائض انجام دئیے جو کہ ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔ طارق عزیز کے منفرد لہجے اور الفاظ کی ادائیگی نے اس پروگرام کو چار چاند لگا دئیے، اس پروگرام کا ڈنکاپوری دنیا میں بجتارہا، جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی تھی یہ پروگرام دیکھا جاتا تھا اس وقت پی ٹی وی کا یہ سب سے زیادہ کمرشل حاصل کرنے والا پروگرام تھا۔
طارق عزیز کا سفر ریڈیو سے ہوتا ہواٹی وی اور فلم تک پہنچا اور سیکھنے کی طلب تا مرگ رہی،فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے تو اس وقت کے بڑے بڑے ناموں کو پیچھے چھوڑ دیا، انکی یاد گار فلموں میںانسانیت،کناری،سالگرہ ساجن رنگ رنگیلا، قسم اس وقت کی اور بے ایمان نمایاں نظر آتی ہیں۔ فلم کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد طارق عزیز نے خود ایک فلم ساجن رنگ رنگیلاپروڈیوس کی۔ شوبز کی دنیا میں انکی وجہ شہرت نیلام گھر تھا۔ طارق عزیز نے لاہور میں مشکل ترین حالات کا سامنا کیا لیکن ہمت نہیں ہاری، فٹ پاتھوں اور پارکوں کے بینچوں پر سونے والا طارق عزیز ریڈیو، ٹی وی اور فلم سے ہوتا ہوا پارلیمنٹ تک جا پہنچا، اپنی زندگی کا سفر نامہ انہوں نے اپنی ایک کتاب فٹ پاتھ سے پارلیمنٹ تک میں بڑی تفصیل سے پیش کیا۔ جذبہ حب الوطنی انکے خون میں شامل تھاانکے والد عبد العزیز1936 میں اپنے ناموں کے ساتھ پاکستانی لکھتے تھے، اپنے ملک سے محبت انہیں اپنی گھٹی میں ملی تھی،یہاں تک کے وصیت میں اپنی تمام جائیداد پاکستان کے نام کر دی۔طارق عزیز ایک بہترین شاعر، ادیب، صداکار، فنکار اور براڈ کاسٹر تھے۔ انکا شعر پڑھنے کا انداز بہت خوبصورت تھاوہ الفاظ کو بیان کرنے کا فن جانتے تھے، جب بھی کچھ بیان کرتے تھے تو لوگو ں کو اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے۔ پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی ان کے پروگرامز مقبول تھے۔ طارق عزیز کا ایک شعری مجموعہ بہت مقبول ہو ا، طارق عزیز ہر فن مولا انسان تھے۔ انکی وفات کے بعدسوشل میڈیاپر انکو گراں قدرخراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے جو آج تک کسی فنکار اور صداکار کو نصیب نہیں ہوا۔ٹویٹر، فیس بک، وٹس ایپ اور انسٹا گرام پر لوگوں نے ان کی تصاویراور شاعری کا اندازبیاں لگا کر انکی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔ صدرِ پاکستان جناب عارف علوی اور وزیرِ اعظم عمران خان صاحب نے انکی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، طارق عزیز کا شوبز کی دنیا میں خلاکبھی پُر نہیں ہو گا کیونکہ ان جیسا دوسرا کوئی اور نہ ہوگا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button