کالم

کسان، زراعت اور غربت

ایک رپورٹ کے مطابق حکومت کے پاس چار ہزار سیڈ کمپنیاں رجسٹر ہیں پھر بھی بیج غیر معیاری اور زرعی ادویات جعلی ملتی ہیں جس سے فی ایکڑ پیداوار کم ہو رہی ہے، حکومت زیادہ پیداواری صلاحیت کے لیے اِن پٹ کی فراہمی اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات سے بھی قاصر ہے۔
پاکستان کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر آتا ہے لیکن ابھی تک پاکستان میں سو فیصد وائرس فری کاٹن سیڈ تیار نہیں کیا جا سکا جس کے لیے ہر سال کپاس کا بیج درآمد کرنا پڑتا یے۔ اس سال کاٹن کی فصل کم ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ سپرے تاخیر سے فراہم ہوئی جس وجہ سے فصل میں کیڑے پڑ گئے اور اس دفعہ کپاس کی پیداوار میں کمی کا سامنا کرنا۔پڑا۔
دُنیا میں بھارت گندم اور چاول پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک بن کر اُبھرا ہے اسکی آبادی پاکستان سے چھ گنا زیادہ ہے لیکن خوراک میں خود کفیل ہے اسکی فی ایکڑ پیداوار بھی ہم سے زیادہ ہے۔ وہ اس لیے کہ وہاں کسانوں کے لیے کھاد، بیج اور زرعی ادویات کی قیمتیں بہت کم ہیں، سبسڈی کی وجہ سے کاشت کا خرچ اور فصل کی قیمت کم ہوتی ہے اس لیے وہ عالمی منڈی میں پاکستان کو پیچھے چھوڑ کر اپنی فصلیں کم قیمت پر فروحت کر کے ایکسپورٹ بڑھاتا ہوا زرِ مبادلہ میں اضافہ کر رہا ہے۔
پاکستان دُنیا کے 245ممالک میں کاٹن، چاول، گندم، آم، امرود اور پیاز کے علاوہ دودھ کی پیداوار کے دس بڑے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ آج بھی ہماری کل ایکسپورٹ کی آمدنی میں زراعت کا حصہ 80 فیصد ہے۔ لیکن ہماری اپنی خامیوں کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں ہمارے قدم آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے جا رہے ہیں، جدید زراعت سے کم مشینری، کم وقت اور کم لاگت میں زیادہ پروڈکشن حاصل ہو رہی ہے، پلانٹ کھیت میں ہی لگائے جاتے ہیں جس سے فصل کی کوالٹی محفوظ رہتی ہے۔ اب زراعت انفرادی یا خاندانی روزگار کی بجائے ایک قومی صنعت بن گئی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ زراعت کی پیداوار میں جدت، مشقت اور پانی میں بچت اور بدلتے موسم سے فصلیں متاثر ہونے سے بچانا زرعی ملک میں کسان سے زیادہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ہماری حکومت جدید ٹیکنالوجی کسان تک پہنچانے میں ناکام رہی ہیں ، کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ شائد کہ ہمارے با اختیار لوگوں کے علم میں نہیں کہ زراعت کس چیز کا نام ہے۔ زراعت میں اناج کی فصلیں سبزیاں، پھلوں کے باغات، پھلوں کی کاشت، جنگلات، گوشت اور دودھ دینے والے جانور، پولٹری، فشریز اور زرعی آلات کی ٹیکنالوجی شامل ہے۔ پاکستان کی زراعت میں پولٹری واحد شعبہ ہے جس میں ملک کے پاس جدید ترین مشینری ہے۔ یہ کم لوگ ہی جانتے ہیں کہ پاکستان پولٹری ایکسپورٹ کر کے زرمبادلہ کماتا رہا ہے، خلیجی ممالک پاکستان پولٹری کے خریدار رہے ہیں مگر اب پاکستان میں پولٹری ایکسپورٹ کرنے کی یہ صلاحیت فصلیں مہنگی ہونے کی وجہ سے ختم ہو رہی ہے۔ کیونکہ پولٹری میں سب سے مہنگی چیز فیڈ ہے اور فیڈ کے بنیادی اجزاء میں گندم، مکئی اور چاول ہیں۔
فصلوں کی قیمت زیادہ ہونے سے پولٹری کی لاگت بڑھ گئی ہے، عالمی مارکیٹ میں ہمارے مدِمقابل ممالک میں فصلوں کی قیمت کم رکھنے کی صلاحیت کے باعث کم قیمت پر پولٹری ایکسپورٹ کر کے پاکستان سے یہ مارکیٹ چھینی جا رہی ہے۔ آج بھی یہ موقع موجود ہے کہ پاکستان میں فصلوں کی پیداواری لاگت کم ہو تو پولٹری کی قیمت کم ہو جائے گی۔ عوام کو مرغی کا گوشت اور انڈے کم قیمت پر دستیاب ہوں گے اور پاکستان عالمی مارکیٹ میں دوسرے ممالک کا مقابلہ کرتے ہوئے پولٹری کو ایکسپورٹ کرنے کے مزید قابل ہو سکتا ہے۔
دُنیا میں پاکستان دودھ کی پیداوار کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ یہ ہماری زراعت کے لیے بہت بڑا سوال ہے کہ پاکستان بیرونِ ملک سےخشک دودھ کیوں خرید رہا ہے۔ اور ملک کی ہر گلی میں کیمیکلز سے بنا دودھ کیوں فروحت ہو رہا ہے۔ حکومت مویشیوں کی افزائش اور خالص اجزا سے خشک دودھ کی تیاری کے پلانٹ کیوں نہیں لگا سکتی؟ پاکستان میں دودھ وافر اور مناسب قیمت پر موجود ہوگا تو دودھ کی تمام مصنوعات بھی اتنی ہی معیاری اور سستی ہو سکتی ہیں کہ پاکستان ان ممالک میں جگہ بنا سکتا ہے جو دودھ کی مصنوعات ایکسپورٹ کر کے زر مبادلہ بنا رہے ہیں۔ ہمارے ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی کی رہائش اور روزگار دیہات میں ہے، شہروں میں رہنے والی اکثریت کے آبائی گھر بھی گاوّں میں ہیں پھر ہمارا دیہی علاقہ اتنا غریب کیوں ہے؟ وہ اس لیے کہ حکومتوں نے گاوّں کے کسان اور زراعت پر وہ رقم خرچ نہیں کی جو دوسرے ملکوں میں کی جا رہی ہے۔ اٹلی میں جب کورونا وائرس سے جب شہروں میں بیروزگاری آئی تو لوگوں نے قریبی دیہاتوں کا رُخ کرنا شروع کر دیا وہ اس لئے کہ وہاں زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہر وقت روزگار موجود ہوتا ہے۔ پاکستان میں نوے فیصد صنعتی کارخانے بھی زراعت سے پیداوار ملنے پر چلتے ہیں اگر ہم دیہات اور زراعت کی ترقی کو ترجیح بنا لیں تو ملک سے بیروزگاری، غربت اور بھوک ختم ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں زراعت حکومتی بد انتظامی کے باعث منافع کی بجائے گھاٹے کا سودا بن گئی ہے، کسان کو براہ راست مارکیٹ تک رسائی نہیں کیونکہ درمیان میں سرکاری ادارے اور مڈل مین حائل ہیں۔ جب کسان لاگت اور محنت کا معاوضہ حاصل نہیں کر سکتا تو زراعت کو پروان کیونکر چڑھائے گا۔ دن رات محنت کے باوجود کسان زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، تعلیم اور صحت کے مسائل کے لیے کسان شہر آنے پر مجبور ہے، موجودہ حالات میں کسان کھیتی باڑی کی بجائے اپنی زرعی زمین فروحت کر کے بہتر سہولیات کے لیے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں اور اگر کسانوں کا شہروں میں منتقل ہونے کا یہ رجحان بڑھتا رہا تو پاکستان میں زراعت کا شعبہ ٹھپ ہو کر برائے نام رہ جائے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button