کالم

قربانی صرف قُربِ خدا کے لیے

ذوالحجہ کی قربانی بھی کسی خاص امتحان سے کم نہیں، اسی لیے اللّٰہ پاک نے حضرت ابراہیمؑ کو خلیل اللّٰہ کا لقب دیا کیونکہ آپ کڑے سے کڑے امتحان میں ثابت قدم رہے اسی لیے اللّٰہ پاک نے آپ کو اپنا دوست بنالیا۔ قربانی سے قبل تین راتیں آپؑ مسلسل ایک ہی خواب دیکھتے رہے کہ اللہ پاک فرماتا ہے کہ اے ابراہیمؑ تو اپنے اکلوتے بیٹے کو ہمارے لیے قربانکر دے، اللّٰہ کا حکم بجا لاتے ہوئے آپؑ نے اپنے بیٹے کو خواب بیان فرمایا کہ کہ اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے قربان کر رہا ہوں تیری کیا مرضی ہے؟
باپ خلیل اللّٰہ تھا تو بیٹا کیسے پیچھے ہٹتا اور اس لیے بھی کہ آپؑ کے سُلبِ اطہر سے آقائے دو جہاں، سردارِ انبیاءحضرت محمدؐ اس جہاں کو دائمی روشنی سے منور کرنے والے تھے اسی وجہ سے آپؑ نے باپؑ کے سامنے سر جھکا دیا اور فرمایا “اے ابّا جان آپ وہی کریں جو آپ کو حکم ملا ہے اور اللہ کے حکم سے آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ آپ نے حضورنبی کریمؐ سے عرض کی کہ اے اللّٰہ کے پیارے حضور قربانی کا ہمیں کتنا اجر ملتا ہے تو آپؐ نے فرمایا قربانی کے جانور کے ایک ایک بال کے برابر ثواب ملتا ہے (ابن ماجہ)۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا کہ آپؐ نے فرمایا کہ اللّٰہ کے نزدیک قربانی سے زیادہ کوئی عمل پیارا نہیں ۔
قربانی کا جانور روزِ آخرت اپنے سینگ بال اور کُھروں کے ساتھ آئے گا، قربانی کرتے ہوئے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللّٰہ پاک قبول کر لیتے ہیں اسی وجہ سے قربانی خوش دلی سے کرو۔( ابنِ دواود،ترمذی)
حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ دس سال تک مدینے میں مقیم رہے اور ہر سال قربانی کی۔(ترمذی)
قربانی کو اگر قرآن پاک کی روشنی میں دیکھیں تو سورة کوثر آیت نمبر دو میں واضح اللّٰہ پاک کا حکم ہے کہ “تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی دو” ۔
ہر طرف عید سے پہلے عید نظر آ رہی ہے ہر ایک نے اپنے گنجائش کے مطابق انتظام کیا ہوا ہے کسی کے ہاں بکرا ہے تو کسی نے دُنبہ خرید لیا ہے، کسی نے گائے میں حصہ ڈال لیا تو کوئی بیل گھر لے آیا۔ کسے کے پاس کئی کئی بکرے ہیں تو کسی نے ایک پر ہی اللّٰہ کا شکر ادا کیا ہے اور رات دن ایک کر کے اسکی خدمت میں جُٹ گئے ہیں۔ کوئی اہنے بیلوں کو گاڑیوں میں گھمانے نکل پڑے ہیں تو کئی اپنے بکروں کو سجا کر گلیوں محلوں کے چکرا لگوا رہے ہیں اور ہم یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ یہ سب تو دنیا دارای اور دکھاوا ہے یہ کون سا دل سے قربانی کر رہے ہیں۔
ہم کون ہوتے ہیں معاشرے کو قبول نہ قبول کی سند دینے والے جبکہ یہ اللّٰہ پاک اور قربانی دینے والے کے درمیان معاملہ ہے ہمیں ان تنقیدی باتوں سے پرہیز کرنی چاہیے تا کہ اللّٰہ کے حضور ہم گنہگار نہ ہوں۔
یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ قربانی حضرت ابراہیمؑ کی سُنت ہے مگر لوگ یہ نہیں جانتے کہ اللہ پاک کا قرب یوں ہی نہی مل جاتا اس کے لیے کئی کڑے امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے تب جا کر انسان خلیل اللّٰہ بنتا ہے۔ یہ تو ہر مسلمان مانتا یہ کہ اللّٰہ کے بعد انبیاء کرامؐ کا درجہ سب سے افضل ہے جنہوں نے کئی کڑے امتحانوں سے گزر کر رب کے سامنے سر تسلیم خم کیا تب ہی جا کر رب کا قرب حاصل ہوا ۔ اللّٰہ پاک کے ہر نبی کو کئی کئی امتحانوں سے گزرنا پڑا ان میں حضرت ابراہیمؐ انہیں انبیاء کرامؐ میں سے ایک ہیں۔ اللہ پاک نے آپکو خلیل اللّٰہ کا لقب اسی لیے دیا کیونکہ آپ کڑے سے کڑے امتحان میں ثابت قدم رہے اسی وجہ سے اللّٰہ پاک نے آپکو خلیل اللّٰہ بنا لیا۔
عظیم سُنتِ ابراہیمی ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ اللّٰہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ہمیں اپنی پیاری سے پیاری چیز کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے، ہمیں دین کی عظمت اور سر بلندی، اسلام کی ترویج اور بقاء کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنی چاہیے۔ بے شک جذبہ قربانی ہی بارگاہ الٰہی میں ہمارے تقویٰ کا اظہار اور قرب کا ذریعہ ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button