جبری گمشدگیاں اور پی ٹی ایم کے مطالبات
کالم نگار: عمر فاروق
پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ گزشتہ دو دہائیوں سے ایک سنگین انسانی حقوق کے بحران کے طور پر سامنے آیا ہے۔ خصوصاً پشتون اور بلوچ علاقوں میں سیاسی کارکنان، طلبہ، سماجی رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن بارہا لاپتہ کیے جانے کی شکایات کرتے رہے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) اور دیگر پشتون کارکنان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ہزاروں افراد کو بغیر عدالتی کارروائی کے حراست میں لیا گیا یا لاپتہ کردیا گیا، جس نے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔
پشتون تحفظ موومنٹ، جس کی قیادت منظور پشتین نے کی، 2018 میں ایک عوامی تحریک کے طور پر ابھری۔ اس تحریک نے ماورائے عدالت قتل، بارودی سرنگوں، چیک پوسٹ کلچر اور جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ PTM کے جلسوں میں بار بار ایسے افراد کے نام لیے گئے جو برسوں سے لاپتہ ہیں یا جن کے اہل خانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
ان کارکنان میں عالمزیب محسود، علی وزیر، محسن داوڑ، ادریس خٹک اور ارباب شیر علی جیسے نام نمایاں رہے ہیں جنہیں مختلف اوقات میں گرفتار یا حراست کا سامنا کرنا پڑا۔ انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک کا معاملہ خاص طور پر عالمی سطح پر زیرِ بحث آیا جب وہ 2019 میں لاپتہ ہوئے اور بعد میں ان پر خفیہ مقدمات چلائے گئے۔ اسی طرح صحافی اور کارکن گلالئی اسماعیل نے بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہونے کا دعویٰ کیا، جبکہ متعدد مقامی کارکنان کے اہل خانہ آج بھی ان کی بازیابی کے لیے احتجاج کرتے ہیں۔
پاکستان کے سرکاری کمیشن، “کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز”، کے مطابق 2011 سے اب تک دس ہزار سے زائد جبری گمشدگیوں کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں سے ہزاروں کیسز تاحال حل طلب ہیں۔  اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بہت سے افراد کو ٹریس کرلیا گیا یا وہ خود واپس آگئے، مگر انسانی حقوق کی تنظیمیں ان اعداد و شمار پر سوال اٹھاتی رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ اصل تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
پشتون علاقوں، خصوصاً سابق فاٹا اور خیبر پختونخوا کے اضلاع میں، لوگوں کا یہ شکوہ رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر عام شہریوں کو بھی شک کی بنیاد پر اٹھایا گیا۔ کئی خاندان برسوں سے اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے عدالتوں، پریس کلبوں اور احتجاجی کیمپوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ یہ صورتحال صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی اور نفسیاتی بحران بھی بن چکی ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں، اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپس اور مقامی سول سوسائٹی بارہا پاکستان پر زور دیتی رہی ہیں کہ جبری گمشدگیوں کو جرم قرار دیا جائے اور تمام حراستوں کو آئینی اور عدالتی نگرانی کے تحت لایا جائے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب کسی شہری کو بغیر مقدمے، بغیر ثبوت اور بغیر عدالتی شفافیت کے غائب کردیا جاتا ہے تو اس سے قانون کی حکمرانی کمزور ہوتی ہے اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
ریاستی اداروں کا مؤقف یہ رہا ہے کہ ملک کو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے، اس لیے سخت سیکیورٹی اقدامات ضروری ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قومی سلامتی اور انسانی حقوق ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ اگر انصاف اور آئین کی بالادستی کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج مزید بے چینی اور سیاسی محرومی کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو سیاسی یا سیکیورٹی بحث تک محدود رکھنے کے بجائے ایک انسانی المیے کے طور پر دیکھا جائے۔ پارلیمنٹ، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں ہر شہری کو آئین کے مطابق تحفظ حاصل ہو اور کسی خاندان کو اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے برسوں سڑکوں پر احتجاج نہ کرنا پڑے











