جمعرات, جون 4, 2026, 7:56 شام
MykNewsTv
MykRealEstate
  • Home Page
  • رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
  • پاکستان
  • بین الاقوامی خبریں
  • کاروبار
  • انٹرٹینمنٹ
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کھیل
  • کرائم
  • کالم
No Result
View All Result
  • Home Page
  • رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
  • پاکستان
  • بین الاقوامی خبریں
  • کاروبار
  • انٹرٹینمنٹ
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کھیل
  • کرائم
  • کالم
No Result
View All Result
MykNewsTv
No Result
View All Result
Home کالم

جبری گمشدگیاں اور پی ٹی ایم کے مطالبات

کالم نگار: عمر فاروق

in کالم
0 0

جبری گمشدگیاں اور پی ٹی ایم کے مطالبات

کالم نگار: عمر فاروق

پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ گزشتہ دو دہائیوں سے ایک سنگین انسانی حقوق کے بحران کے طور پر سامنے آیا ہے۔ خصوصاً پشتون اور بلوچ علاقوں میں سیاسی کارکنان، طلبہ، سماجی رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن بارہا لاپتہ کیے جانے کی شکایات کرتے رہے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) اور دیگر پشتون کارکنان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ہزاروں افراد کو بغیر عدالتی کارروائی کے حراست میں لیا گیا یا لاپتہ کردیا گیا، جس نے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔

پشتون تحفظ موومنٹ، جس کی قیادت منظور پشتین نے کی، 2018 میں ایک عوامی تحریک کے طور پر ابھری۔ اس تحریک نے ماورائے عدالت قتل، بارودی سرنگوں، چیک پوسٹ کلچر اور جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ PTM کے جلسوں میں بار بار ایسے افراد کے نام لیے گئے جو برسوں سے لاپتہ ہیں یا جن کے اہل خانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

ان کارکنان میں عالمزیب محسود، علی وزیر، محسن داوڑ، ادریس خٹک اور ارباب شیر علی جیسے نام نمایاں رہے ہیں جنہیں مختلف اوقات میں گرفتار یا حراست کا سامنا کرنا پڑا۔ انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک کا معاملہ خاص طور پر عالمی سطح پر زیرِ بحث آیا جب وہ 2019 میں لاپتہ ہوئے اور بعد میں ان پر خفیہ مقدمات چلائے گئے۔ اسی طرح صحافی اور کارکن گلالئی اسماعیل نے بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہونے کا دعویٰ کیا، جبکہ متعدد مقامی کارکنان کے اہل خانہ آج بھی ان کی بازیابی کے لیے احتجاج کرتے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری کمیشن، “کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز”، کے مطابق 2011 سے اب تک دس ہزار سے زائد جبری گمشدگیوں کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں سے ہزاروں کیسز تاحال حل طلب ہیں۔  اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بہت سے افراد کو ٹریس کرلیا گیا یا وہ خود واپس آگئے، مگر انسانی حقوق کی تنظیمیں ان اعداد و شمار پر سوال اٹھاتی رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ اصل تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

پشتون علاقوں، خصوصاً سابق فاٹا اور خیبر پختونخوا کے اضلاع میں، لوگوں کا یہ شکوہ رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر عام شہریوں کو بھی شک کی بنیاد پر اٹھایا گیا۔ کئی خاندان برسوں سے اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے عدالتوں، پریس کلبوں اور احتجاجی کیمپوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ یہ صورتحال صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی اور نفسیاتی بحران بھی بن چکی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں، اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپس اور مقامی سول سوسائٹی بارہا پاکستان پر زور دیتی رہی ہیں کہ جبری گمشدگیوں کو جرم قرار دیا جائے اور تمام حراستوں کو آئینی اور عدالتی نگرانی کے تحت لایا جائے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب کسی شہری کو بغیر مقدمے، بغیر ثبوت اور بغیر عدالتی شفافیت کے غائب کردیا جاتا ہے تو اس سے قانون کی حکمرانی کمزور ہوتی ہے اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

ریاستی اداروں کا مؤقف یہ رہا ہے کہ ملک کو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے، اس لیے سخت سیکیورٹی اقدامات ضروری ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قومی سلامتی اور انسانی حقوق ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ اگر انصاف اور آئین کی بالادستی کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج مزید بے چینی اور سیاسی محرومی کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو سیاسی یا سیکیورٹی بحث تک محدود رکھنے کے بجائے ایک انسانی المیے کے طور پر دیکھا جائے۔ پارلیمنٹ، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں ہر شہری کو آئین کے مطابق تحفظ حاصل ہو اور کسی خاندان کو اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے برسوں سڑکوں پر احتجاج نہ کرنا پڑے

Previous Post

صنم جاوید کو جسمانی ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا

Next Post

پاک فضائیہ کی ایک اور بڑی کامیابی

مزیدخبریں

کالم

دوغلی امن پالیسی

04/16/2026
اعوام اورمیں

پاکستان کا ابھرتا ہوا شعبہ "کال سینٹر”

07/30/2025
کالم

پاکستان میں سیلاب، ریاستی غفلت اور اجتماعی بےحسی

07/24/2025
کالم

کیا پاکستان جاپان بن سکتا ہے؟

07/16/2025
کالم

خاموش دنیاؤں کے مسافر

07/05/2025
کالم

اسرائیل-ایران کشیدگی کا پاکستان پر اثر

06/20/2025
Next Post

پاک فضائیہ کی ایک اور بڑی کامیابی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ ترین

وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم قرار دے دیا

10/23/2025

اسلام آباد پولیس کے ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر مبینہ طور پر خودکشی کے باعث جاں بحق

10/23/2025

فرانس نے لوور میوزیم میں قیمتی شاہی زیورات چرانے والوں کی تلاش تیز کر دی

10/21/2025

پاکستان کا ابھرتا ہوا شعبہ "کال سینٹر”

07/30/2025

طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی خبریں بے بنیاد، افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی پاکستان کے لیے مستقل خطرہ، دفتر خارجہ

07/24/2025

پاکستان میں پہلی مسابقتی انرجی مارکیٹ پالیسی 2 ماہ میں نافذ ہوگی، اویس لغاری

07/24/2025

جنوری 2024
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  
« جولائی   جولائی »
Myk-News-Tv

ایم وائے کے نیوزٹی وی پر آپ کو پاکستان سمیت دنیا بھر کی تازہ ترین خبریں مستند ذرائع کے ساتھ ملیں گی اس کے ساتھ ساتھ روزانہ ہونے والے ٹاک شوز اورایم وائے کے نیوز ٹی وی کی مختلف ویڈیوز بھی دیکھ سکیں گے

No Result
View All Result

Copyright © 2022, All Rights Reserved | MYK News Tv | Proudly Hosted by MYK AutoTrader Japan Co. Ltd

  • Contact Us
  • About Us
  • Privacy Policy

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home Page
  • رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
  • پاکستان
  • بین الاقوامی خبریں
  • کاروبار
  • انٹرٹینمنٹ
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کھیل
  • کرائم
  • کالم

Copyright © 2022, All Rights Reserved | MYK News Tv | Proudly Hosted by MYK AutoTrader Japan Co. Ltd