باجوڑ کی تحصیل خار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی رہنما اور علما کونسل کے سربراہ مولانا خان زیب جاں بحق ہو گئے۔ افسوسناک واقعہ ہیڈ کوارٹر کے قریب پیش آیا، جہاں حملے میں ان کے تین ساتھی بھی شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) وقاص رفیق کے مطابق فائرنگ کا واقعہ اُس وقت پیش آیا جب مولانا خان زیب 13 جولائی کو متوقع "امن مارچ” کے حوالے سے تنظیمی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ حملے کو منصوبہ بند کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔مولانا خان زیب نہ صرف اے این پی کی علما کونسل کے سربراہ تھے بلکہ ماضی میں قومی اسمبلی کے امیدوار بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی سیاسی و مذہبی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ باجوڑ میں خاصی مقبولیت رکھتے تھے۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
دوغلی امن پالیسی عمر فاروق سٹوڈنٹ آف لا کونٹری یونیورسٹی لندن پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا…
اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ…
اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کی خبر نے دارالحکومت کی…
فرانسیسی پولیس نے منگل کے روز اُن چوروں کی تلاش تیز کر دی جنہوں نے لوور میوزیم سے قیمتی شاہی…
اسلام آباد (ایم وائے کے نیوز ٹی وی) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے…