کراچی: انسداد دہشتگردی عدالت نے نوجوان مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس میں گرفتار ملزم ارمغان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس سے قبل سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس ظفر راجپوت نے کیس کی سماعت کی، جس میں سرکاری وکیل، کیس کے سابق تفتیشی افسر، اور دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران ملزم ارمغان کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے دریافت کیا کہ کیس کا موجودہ تفتیشی افسر کون ہے؟ سرکاری وکیل نے آگاہ کیا کہ محمد علی کو نیا تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے۔ عدالت نے سابق تفتیشی افسر امیر اشفاق سے استفسار کیا کہ میڈیکل لیٹر کہاں ہے؟ امیر اشفاق نے جواب دیا کہ انہیں کوئی لیٹر موصول نہیں ہوا تھا۔ عدالت نے مزید سوال کیا کہ کیا ایم ایل او (میڈیکو لیگل افسر) کو کوئی لیٹر دیا گیا تھا؟ اگر ہاں، تو کیوں؟ سابق تفتیشی افسر نے وضاحت دی کہ انہیں زبانی احکامات دیے گئے تھے۔ جسٹس ظفر راجپوت نے ریمارکس دیے کہ جیل کسٹڈی کے بعد پولیس کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔
بعد ازاں، عدالت نے ملزم ارمغان کو اغوا، قتل، اور دیگر الزامات میں فوری طور پر انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ اے ٹی سی (انسداد دہشتگردی عدالت) نے ملزم کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا تاکہ مزید تفتیش کی جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور دیگر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ مصطفیٰ عامر کے قتل میں ملوث تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ…
اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کی خبر نے دارالحکومت کی…
فرانسیسی پولیس نے منگل کے روز اُن چوروں کی تلاش تیز کر دی جنہوں نے لوور میوزیم سے قیمتی شاہی…
اسلام آباد (ایم وائے کے نیوز ٹی وی) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے…
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایک بڑے انکشاف میں بتایا ہے کہ پاکستان آئندہ دو ماہ میں توانائی کے…