اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں 26ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف وکلا کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ وکلا ایکشن کمیٹی کے تحت ہونے والے احتجاج میں شریک وکلا سرینا چوک پہنچ گئے، جہاں پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے قیدیوں کی وین تعینات کر دی، جبکہ خواتین پولیس اہلکاروں کی اضافی نفری بھی موجود ہے۔ حکام نے چوک کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا تاکہ وکلا ریڈ زون میں داخل نہ ہو سکیں۔ مظاہرین نے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ ریڈ زون میں داخل نہ ہونے پر وکلا نے سری نگر ہائی وے بلاک کر دی، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کی کوشش ہے کہ وکلا کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکا جائے، جبکہ مظاہرین اپنے مطالبات پر زور دے رہے ہیں۔ کسی ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کے لیے اضافی پولیس اور رینجرز کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔
جنگ اور دی نیوز میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پلاننگ کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان…
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ایس ایچ او کوٹ لکھپت افضل رؤف پر عائد 200 روپے جرمانے کی سزا معطل کردی۔…
راولپنڈی: بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں کے دوران 9 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ…
اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی ایمرجنسی اور گورنر…
اسلام آباد: جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان پیٹرولیم لیوی میں کمی کے طریقہ کار پر اتفاق ہوگیا۔ ذرائع…