اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں 26ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف وکلا کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ وکلا ایکشن کمیٹی کے تحت ہونے والے احتجاج میں شریک وکلا سرینا چوک پہنچ گئے، جہاں پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے قیدیوں کی وین تعینات کر دی، جبکہ خواتین پولیس اہلکاروں کی اضافی نفری بھی موجود ہے۔ حکام نے چوک کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا تاکہ وکلا ریڈ زون میں داخل نہ ہو سکیں۔ مظاہرین نے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ ریڈ زون میں داخل نہ ہونے پر وکلا نے سری نگر ہائی وے بلاک کر دی، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کی کوشش ہے کہ وکلا کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکا جائے، جبکہ مظاہرین اپنے مطالبات پر زور دے رہے ہیں۔ کسی ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کے لیے اضافی پولیس اور رینجرز کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ…
اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کی خبر نے دارالحکومت کی…
فرانسیسی پولیس نے منگل کے روز اُن چوروں کی تلاش تیز کر دی جنہوں نے لوور میوزیم سے قیمتی شاہی…
اسلام آباد (ایم وائے کے نیوز ٹی وی) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے…
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایک بڑے انکشاف میں بتایا ہے کہ پاکستان آئندہ دو ماہ میں توانائی کے…