اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں 26ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف وکلا کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ وکلا ایکشن کمیٹی کے تحت ہونے والے احتجاج میں شریک وکلا سرینا چوک پہنچ گئے، جہاں پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے قیدیوں کی وین تعینات کر دی، جبکہ خواتین پولیس اہلکاروں کی اضافی نفری بھی موجود ہے۔ حکام نے چوک کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا تاکہ وکلا ریڈ زون میں داخل نہ ہو سکیں۔ مظاہرین نے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ ریڈ زون میں داخل نہ ہونے پر وکلا نے سری نگر ہائی وے بلاک کر دی، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کی کوشش ہے کہ وکلا کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکا جائے، جبکہ مظاہرین اپنے مطالبات پر زور دے رہے ہیں۔ کسی ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کے لیے اضافی پولیس اور رینجرز کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ جسٹس راحیل کامران شیخ 7 مئی 2021…
مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں طلبہ کیلئے ماہانہ 3 ہزار روپے قسط پر ای بائیک دینے کی تجویز…
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے استعفے سے قبل اپنا آخری فیصلہ جاری کردیا، فیصلہ سگریٹ، پان اور…
لاہور: این سی سی آئی اے نے اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کے کیس میں (ن)…
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فتنۃ الخوارج کے دہشتگردوں نے پاک افغان سرحد…
این سی سی آئی اے کے مطابق نئے ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر اداکارہ مومنہ اقبال اور ایم پی اے…