پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ ڈاکوؤں نے ایک نوجوان کو لوٹ کر گولی مار دی ہے، جس کے بعد زخمی نوجوان کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ابتدائی طور پر واقعہ ایک عام ڈکیتی معلوم ہوا، لیکن تفتیش کے دوران پولیس کو شواہد مشتبہ لگے۔
پولیس کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ڈکیتی کی واردات دراصل مبینہ طور پر جعلی تھی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ نوجوان نے 80 ہزار روپے کی تنخواہ والدین کو دینے کے بجائے نیا موبائل فون خریدنے کی خاطر اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ڈکیتی کا ڈرامہ رچایا۔
تفتیش کے مطابق نوجوان نے اپنی ہی ٹانگ پر گولی مروائی تاکہ واقعے کو حقیقی ڈکیتی ظاہر کیا جا سکے۔
پولیس نے اس منصوبے میں مبینہ طور پر ملوث دوستوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور ایک ملزم سے استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کر لیا۔
تینوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس واقعے میں استعمال ہونے والی دیگر اشیا اور موبائل فون برآمد کیے جا سکیں اور یہ بھی معلوم کیا جا سکے کہ آیا ملزمان پہلے بھی کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث رہے ہیں یا نہیں۔
اہم نوٹ: یہ تمام تفصیلات پولیس کے مؤقف اور ابتدائی تفتیش پر مبنی ہیں۔ حتمی حقائق کا تعین عدالت میں قانونی کارروائی اور مکمل تحقیقات کے بعد ہوگا۔













