بھارتی پارلیمان نے ‘وندے ماترم’ کی توہین کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل منظور کر لیا ہے۔
بل کے تحت وندے ماترم گانے کے دوران رکاوٹ ڈالنے یا اس کی توہین کرنے پر تین سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔
اس بل کو پہلے بھارتی پارلیمان کے ایوانِ بالا (Rajya Sabha) اور بعد ازاں ایوانِ زیریں (Lok Sabha) نے منظور کیا۔
اب یہ بل دروپدی مرمو کی منظوری کے بعد قانون بن جائے گا۔
یہ بل وزیرِ مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے پیش کیا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ قومی علامات اور قومی گیت کا احترام سیاست سے بالاتر ہے اور یہ قانون قومی وقار کے تحفظ کے لیے لایا گیا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور بعض مذہبی و سماجی حلقوں نے اس بل کی مخالفت کی اور اس پر اعتراضات اٹھائے۔
پس منظر:
"وندے ماترم” کو 1950 میں قومی گیت کی حیثیت دی گئی تھی۔
اس سے قبل بھارت میں قومی ترانے جن گن من اور دیگر قومی اعزازات کی توہین سے متعلق قانونی تحفظ موجود تھا، تاہم وندے ماترم کے لیے ایسا مخصوص قانون موجود نہیں تھا۔












