پیرس اولمپکس میں تاریخی گولڈ میڈل جیتنے والے پاکستانی جیولن تھرو ایتھلیٹ ارشد ندیم کی دولتِ مشترکہ کھیلوں میں کارکردگی توقعات کے مطابق نہ رہی۔ گلاسگو میں ہونے والے مقابلے میں ارشد ندیم نویں پوزیشن پر رہے اور فائنل میں 80 میٹر کی حد بھی عبور نہ کر سکے۔ مقابلے میں: پہلی تھرو فاؤل ہوئی۔ دوسری باری میں ان کی بہترین تھرو 77.41 میٹر رہی۔ تیسری تھرو 75.39 میٹر رہی۔ وہ اگلے مرحلے کے لیے ٹاپ آٹھ کھلاڑیوں میں شامل نہ ہو سکے۔ اس کارکردگی کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر بعض افراد نے ان پر تنقید کی، جبکہ کچھ لوگوں نے ان کی انجری، تیاری کے مسائل اور مناسب تربیتی سہولیات کی کمی کو وجہ قرار دیا۔ اس مقابلے میں رمیش پتھیراگے نے 89.75 میٹر تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا۔ نیرج چوپڑا نے 85.83 میٹر کے ساتھ چاندی، جبکہ یش ویر سنگھ نے 85.41 میٹر کے ساتھ کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ یاد رہے کہ ارشد ندیم نے 2022 کے برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں 90.18 میٹر تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا تھا۔ یہ نتیجہ ارشد ندیم کے لیے ایک مشکل مقابلہ ضرور تھا، تاہم ایک کھلاڑی کی کارکردگی میں انجری، فارم، تیاری اور مقابلے کے دن کے حالات جیسے کئی عوامل اثر انداز ہو سکتے ہیں۔












