اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے اس حکم کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کو مختلف مالی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ یہ معلومات پی سی بی حکام اور سلیکشن کمیٹی کے ارکان کی تنخواہوں، قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس، میچ فیس، الاؤنسز اور دیگر مالی فوائد سے متعلق تھیں۔ درخواستوں میں 2023 سے 2025 تک پی سی بی کے سالانہ بجٹ اور اخراجات، اور نومبر 2025 میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں ہونے والی ون ڈے سیریز کے براڈکاسٹنگ رائٹس، اسپانسرشپس، اشتہارات، ٹکٹوں کی فروخت اور دیگر تجارتی آمدنی کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔ پی سی بی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مانگی گئی معلومات میں صرف ادارہ جاتی اخراجات ہی نہیں بلکہ افراد کی ذاتی مالی معلومات اور خفیہ معاہدوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں، اس لیے انہیں عام نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ان درخواستوں پر متعلقہ شہریوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات پر عمل درآمد فی الحال روک دیا اور مزید سماعت تک معاملہ ملتوی کر دیا۔ یعنی، اس مرحلے پر عدالت نے معلومات جاری کرنے کا حکم منسوخ نہیں کیا بلکہ اس پر عارضی طور پر عمل درآمد معطل کیا ہے۔ حتمی فیصلہ آئندہ سماعتوں میں ہوگا۔













