ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے 10 سال بعد دائر کیا گیا زمین کی فروخت کے معاہدے پر عملدرآمد کا دعویٰ مسترد کردیا
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ زمین کی فروخت کے معاہدے سے انکار کی تاریخ سے تین سال کے اندر دعویٰ دائر کرنا لازم ہے، تاہم 10 سال بعد دائر کیا گیا عملدرآمد کا دعویٰ ناقابلِ سماعت ہے۔
جسٹس مزمل اختر شبیر نے سائل میاں انعام اور دیگر کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ معاہدے پر دستخط سے انکار کو معاہدہ ختم کرنے سے متعلق واضح اطلاع تصور کیا جائے گا۔ ایک بار مدتِ سماعت شروع ہوجائے تو بعد کا کوئی واقعہ اسے روک نہیں سکتا۔
فیصلے کے مطابق بعد میں بھیجا گیا قانونی نوٹس مدتِ سماعت کو دوبارہ شروع نہیں کرسکتا۔ خریدار نے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے بروقت عدالت سے رجوع نہیں کیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے دو ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھتے ہوئے دوسری اپیل بھی خارج کردی۔
اسلام آباد: جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان پیٹرولیم لیوی میں کمی کے طریقہ کار پر اتفاق ہوگیا۔ ذرائع…
لاہور: جوہر ٹاؤن میں بائیک رائیڈر کی جانب سے خاتون کے ساتھ مبینہ نازیبا حرکت کی کوشش پر خاتون نے…
اقوام متحدہ: پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے جامع، جمہوری اور منصفانہ اصلاحات…
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام…
عام طور پر کتوں کو وفاداری کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن جنوبی امریکی ملک بولیویا میں ایک مرغے…