اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کرنا ایوان کا اختیار ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جب صوبہ جل رہا ہو اور امن و امان کی صورتحال خراب ہو تو سیاست کو ایک طرف رکھ کر ریاست کو ترجیح دی جاتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 4 ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2025 تک صوبے میں دہشت گردی کے 3,700 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، تاہم اتنے سنگین حالات کے باوجود خیبرپختونخوا میں فارنزک لیبارٹری موجود نہیں۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی کا ڈھانچہ بھی مکمل نہیں جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تمام تر توجہ سیاست پر مرکوز رہی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر صوبے کے معاملات آئینی طریقہ کار سے ہٹ کر چلائے جا رہے ہوں تو گورنر صدر مملکت کو خط لکھتا ہے، جس کے بعد صدر مملکت اطمینان کرنے کے بعد وزیراعظم کی ایڈوائس کی منظوری دیتے ہیں۔
گاڑیوں کی تعداد میں 770 فیصد سے زائد اضافہ، فضائی آلودگی سنگین ہوگئی اسلام آباد: پاکستان میں گاڑیوں کی تعداد…
سوات میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک سوات: محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) اور…
پشاور میں اسکول منہدم، مالک نے حادثے کی وجہ بارشیں قرار دے دی پشاور: منہدم ہونے والے نجی اسکول کے…
خیبرپختونخوا کے محکمہ معدنیات میں 16 ارب 94 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں اسلام آباد: آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ…
لاہور کے اقبال ٹاؤن میں آوارہ کتے نے حملہ کرکے میو اسپتال کے ڈاکٹر نعمان کو زخمی کردیا۔ ترجمان…
آزاد جموں و کشمیر پولیس نے کوٹلی میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 8 مسلح کارندوں کو گرفتار…