سائنس دان طویل عرصے سے خوابوں کی حقیقت اور ان کے پس پردہ عوامل کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق، نیند کے دوران شعور کے سوتے ہی لاشعور جاگ جاتا ہے اور دبے ہوئے خیالات، جذبات یا نامکمل خواہشات منظرعام پر آ جاتی ہیں۔ یہ خیالات خواب کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں، جن میں اکثر مناظر الجھے ہوئے اور بے ترتیب ہوتے ہیں۔
لاشعور میں ایک قدرتی "سنسر” موجود ہوتا ہے جو خوابوں میں زیادہ خوفناک یا غیر اخلاقی مناظر کو اشاروں میں تبدیل کر دیتا ہے، لیکن اگر یہ سنسر غیرفعال ہو جائے تو خواب ہیجان خیز اور پریشان کن ہو سکتے ہیں۔
کچھ لوگ خوابوں کو مستقبل کی پیش گوئی سے تعبیر کرتے ہیں، جبکہ دیگر انہیں ماضی کی یادوں اور تجربات سے جوڑتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک انسان اوسطاً آٹھ گھنٹے کی نیند میں دو گھنٹے خواب دیکھتا ہے۔ یہ وقت "ریم نیند” کے دوران ہوتا ہے، جو ہر ڈیڑھ گھنٹے بعد تقریباً بیس منٹ کے لیے آتی ہے۔ اگر خواب کے دوران آنکھ کھل جائے تو وہ خواب یاد رہتا ہے، ورنہ بھلا دیا جاتا ہے۔
دن بھر کی سوچ یا پریشانی خوابوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ مثال کے طور پر، سرجری سے پہلے مریضوں کو مختلف خواب آتے ہیں، لیکن کامیاب سرجری کے بعد ان کے خواب معمول پر آ جاتے ہیں۔
خوابوں کی چار اقسام سمجھی جاتی ہیں:
جنگ اور دی نیوز میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پلاننگ کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان…
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ایس ایچ او کوٹ لکھپت افضل رؤف پر عائد 200 روپے جرمانے کی سزا معطل کردی۔…
راولپنڈی: بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں کے دوران 9 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ…
اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی ایمرجنسی اور گورنر…
اسلام آباد: جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان پیٹرولیم لیوی میں کمی کے طریقہ کار پر اتفاق ہوگیا۔ ذرائع…