ایٹمی جنگ چھڑ گئی تو کتنے افراد لقمہ اجل بن جائیں گے؟تحقیقاتی رپورٹ شائع

امریکا کی 98 فیصد آبادی بھوک سے ہلاک ہو جائے گی، جو کہ 31 کروڑ 12 لاکھ افراد بنتے ہیں

واشنگٹن:پہلی عالمگیر جنگ کے بعد عالمی تنازعات کو تصادم سے پہلے ختم کرنے کی نیت سے ’لیگ آف نیشنز‘ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، لیکن یہ ادارہ عالمی امن کی ضمانت فراہم کرنے میں ناکام رہا۔
معتبر جریدے Nature Food میں ایک تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی ہے جو ایٹمی تصادم کی صورت میں ممکنہ تباہ کاریوں کا جائزہ پیش کرتی ہے۔
اس رپورٹ میں کمپیوٹر سیمولیشنز کی مدد سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے پیدا ہونے والی تابکاری، حدت، اور دھماکے کے اثرات کی شدت اور سمت کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں فضاء میں آنے والی منفی تبدیلیوں اور زراعت پر منفی اثرات کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔
اگر ایٹمی جنگ چھڑ گئی تو 6.7 ارب افراد لقمہ اجل بن جائیں گے اور خوراک کی ترسیل کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو جائے گا۔
امریکہ، کینیڈا، اور یورپ کے کئی حصوں میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہوگی، جس کے نتیجے میں امریکا کی 98 فیصد آبادی بھوک سے ہلاک ہو جائے گی، جو کہ 31 کروڑ 12 لاکھ افراد بنتے ہیں۔
جنوبی امریکا، آسٹریلیا، اور کچھ چھوٹے خطے ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں کو بہتر طریقے سے سہہ سکیں گے کیونکہ ان کی زراعت مستحکم بنیادوں پر استوار ہے۔
ارجنٹائن، برازیل، یوراگوئے، پیراگوئے، آسٹریلیا، آئس لینڈ، اور عمان جیسے ممالک عالمی بحران کے باوجود اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے قابل رہیں گے۔
لائیو اسٹاک پر انحصار کرنے والے غذائی نظام کو تین طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: اول، مویشی ہلاک نہیں ہوتے؛ دوم، پہلے سال کے اندر آدھے مویشی ہلاک ہوجاتے ہیں؛ سوم، مویشیوں کی خوراک کا آدھا حصہ انسانوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایٹمی حملے کے فوری اثرات انسانی زندگیوں پر پڑیں گے، اور قبرص میں واقع یونیورسٹی آف نکوسیا کی ایک تحقیق میں ایٹمی حملے کی صورت میں محفوظ رہنے کے طریقوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
تحقیق میں 750 کلو ٹن طاقت کے بم کے حملے کا تصور کیا گیا، جو کہ ناگاساکی پر گرائے جانے والے بم سے تین گنا زیادہ طاقتور ہے۔
تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ گھر کا وہ کمرہ جو دروازوں اور کھڑکیوں سے دور ہو، ایٹمی حملے کے دوران محفوظ ترین جگہ ہو گی۔
حالیہ مہینوں میں عالمی طاقتوں کے درمیان تناؤ کی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔
روس کے سابق صدر دمتری مدوادیو نے کہا کہ روس کے میزائل مغربی ممالک کے دفاعی حصار کو چکمہ دے کر یورپی شہروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اور اگر ان کے وار ہیڈ ایٹمی ہوئے تو یہ نقصان ناقابل تصور ہوگا۔
روس نے پہلے ہی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے خطرے کی شدت میں کمی کر دی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مخصوص شدت کے روایتی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں ایٹمی ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ایسے ممالک جو جنگ کے دوران محفوظ رہ سکتے ہیں میں انٹارکٹیکا بھی شامل ہے، جو دنیا کے آخری کنارے پر واقع ہے اور اس کی کوئی تزویراتی اہمیت نہیں ہے۔
نیوزی لینڈ ایک غیر جانبدار ملک رہے گا اور اس کی پہاڑی علاقوں کی وجہ سے یہ ایٹمی اثرات سے محفوظ رہے گا۔

 

web

Recent Posts

سوات؛ گاڑی بریک فیل ہونے سے بے قابو ہو کر کھائی میں جاگری، خاتون سمیت 3افراد جاں بحق

سوات: فیلڈر گاڑی کھائی میں جاگری، خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق سوات کے علاقے منگلور شالدرہ میں فیلڈر گاڑی…

11 گھنٹے ago

روسی صدر کا یومِ آزادی پر تہنیتی پیغام، پاکستانی قیادت اور قوم کو مبارکباد

روسی صدر پیوٹن کا یومِ آزادی پر صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کو تہنیتی پیغام روسی صدر ولادیمیر پیوٹن…

11 گھنٹے ago

یادگار فتح کا افتتاح: تقریب کے دوران فیلڈ مارشل کی خواتین کے سر پر دست شفقت رکھنے کی ویڈیو وائرل

اسلام آباد: جشنِ آزادی پر یادگارِ فتح کا افتتاح، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ویڈیو وائرل جشنِ آزادی کے موقع…

12 گھنٹے ago

اسلام آباد کے ڈی چوک میں آج کیا ہونے جا رہا ہے؟

اسلام آباد: ڈی چوک 12 سال بعد یومِ آزادی سٹی پریڈ کی میزبانی کے لیے تیار وفاقی دارالحکومت اسلام آباد…

12 گھنٹے ago

3 پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے تیسرے ملزم کی شناخت ہوگئی

لاہور: ریحان بٹ کے مبینہ ساتھی کی تلاش جاری پولیس ذرائع کے مطابق ریحان بٹ کے ساتھ رابطے میں رہنے…

12 گھنٹے ago

ڈارون ٹیسٹ: تنزید حسن کی سنچری، بنگلادیش کی آسٹریلیا کیخلاف پوزیشن مضبوط

ڈارون ٹیسٹ: بنگلادیش کی آسٹریلیا کے خلاف پوزیشن مضبوط ڈارون ٹیسٹ کے دوسرے روز بنگلادیش نے آسٹریلیا کے خلاف اپنی…

12 گھنٹے ago