وفاقی بجٹ 2025 کے بعد پاکستان میں لگژری گاڑیوں کے خریداروں کے لیے بڑی خوشخبری آ گئی ہے، کیونکہ حکومت نے درآمدی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں واضح کمی کرتے ہوئے ان کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کی کمی کر دی ہے۔ فنانس ایکٹ 2025 کے تحت جاری کیے گئے ایس آر اوز کی روشنی میں کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی (RD) اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (ACD) میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جس سے خاص طور پر لگژری SUVs کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔
اس پالیسی کے تحت ACD کو 7 فیصد سے کم کر کے 6 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر درآمدی چارجز میں بھی نرمی کی گئی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد صرف آٹو مارکیٹ کو متحرک کرنا نہیں بلکہ ملکی معیشت میں شفافیت لانا اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنا بھی ہے۔
نئی پالیسی کے اثرات آٹو مارکیٹ میں فوری طور پر نظر آنا شروع ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر جاپانی اور یورپی درآمد شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں قابلِ ذکر کمی دیکھی گئی ہے۔ ان گاڑیوں میں ٹویوٹا لینڈ کروزر (LC200، LC300)، پراڈو (LC150) اور لیکسس (LX570/LX600) شامل ہیں، جن کی قیمتیں اب کروڑوں کے بجائے لاکھوں میں کم ہو گئی ہیں۔
قیمتوں میں ہونے والی نمایاں کمی:
Prado LC150
-
2020 ماڈل: 24 سے 26 لاکھ روپے کمی
-
2021 ماڈل: 29 سے 30 لاکھ روپے کمی
Lexus LX570
-
2020 ماڈل: 65 سے 67 لاکھ روپے کمی
-
2021 ماڈل: 75 سے 78 لاکھ روپے کمی
Land Cruiser LC200 – URJ 202 سیریز
-
URJ 202-ZX (2020): 41 سے 42 لاکھ روپے کمی
-
URJ 202-ZX (2021): 47 سے 48 لاکھ روپے کمی
-
URJ 202-AX (2020): 30 سے 32 لاکھ روپے کمی
-
URJ 202-AX (2021): 35 سے 37 لاکھ روپے کمی
Land Cruiser LC300 – AX اور ZX ماڈلز
-
AX (2021): 37 سے 38 لاکھ روپے کمی
-
AX (2022): 45 سے 46 لاکھ روپے کمی
-
AX (2023): 54 سے 55 لاکھ روپے کمی
-
ZX (2021): 49 سے 50 لاکھ روپے کمی
-
ZX (2022): 60 سے 61 لاکھ روپے کمی
-
ZX (2023): 70 سے 71 لاکھ روپے کمی
-
ZX (2024): 76 سے 80 لاکھ روپے کمی
وفاقی حکام کے مطابق یہ اقدام غیر ضروری درآمدات پر کنٹرول کے ساتھ ساتھ آٹو مارکیٹ میں مقابلہ بازی بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ قیمتیں متوازن سطح پر آئیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ملک میں آٹو انڈسٹری کو نئی زندگی ملے گی اور صارفین کو بھی مناسب قیمتوں پر جدید گاڑیاں دستیاب ہوں گی۔