(ایم وائے کے نیوز ٹی وی) ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ فضاء میں ایک نیا باب کھل گیا ہے۔ اسرائیل نے جنگ بندی کے فوراً بعد یمن میں حوثی شدت پسندوں کے خلاف بڑے فضائی حملے شروع کر دیے ہیں، جو اتوار کی رات سے پیر کی صبح تک جاری رہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں واقع حدیدہ، رش عیسا، صلیف بندرگاہوں اور راس کاناتب پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب حوثیوں نے جنگ بندی کے باوجود اسرائیل پر تین بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے ایک کو کامیابی سے روک لیا گیا۔ اسرائیل نے جوابی کارروائی کو "آپریشن بلیک فلیگ” کا حصہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حوثی میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھتے ہیں، تو مزید سخت کارروائیاں کی جائیں گی۔ فضائی حملوں سے قبل اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان آویچائی ادری نے بندرگاہوں اور بجلی گھروں سے فوری انخلاء کی وارننگ جاری کی۔ دوسری جانب، اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کٹز نے واضح کیا کہ حوثی اپنی جارحانہ حکمتِ عملی کی بھاری قیمت چکاتے رہیں گے۔
حملوں کا دائرہ گلیکسی لیڈر نامی اس کارگو جہاز تک بھی پہنچا، جسے حوثیوں نے نومبر 2023 میں قبضے میں لیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، حوثیوں نے اس جہاز پر ریڈار سسٹم نصب کر رکھا تھا جو بین الاقوامی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو مانیٹر کرنے اور دہشتگردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ حوثیوں نے اسرائیلی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یمنی فضائی دفاعی نظام نے مؤثر انداز میں اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کیا۔ ان کے مطابق، مقامی طور پر تیار کردہ سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے اسرائیلی حملوں کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم حوثی رہنما محمد الفرحا نے حملوں کو شہریوں کو نشانہ بنانے کی سازش قرار دیا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو امریکا کے دورے پر روانہ ہو چکے ہیں اور واشنگٹن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل اور حماس کی جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیل کو نہ صرف غزہ بلکہ لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کی جانب سے مسلسل راکٹ اور میزائل حملوں کا سامنا ہے۔ ان گروپوں نے فلسطینیوں سے یکجہتی کے طور پر اسرائیل کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اب ایران-اسرائیل جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا یمن میں جارحانہ اقدام یہ واضح کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ختم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔