اسلام آباد (ایم وائے کے نیوز ٹی وی ) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے فیصلے نے مخصوص نشستوں پر بحال ہونے والے ارکان کے لیے مالی اور سیاسی دونوں حوالوں سے خوشخبری لا دی ہے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ان ارکان کو صرف رکنیت کی بحالی نہیں بلکہ معطلی کے پورے عرصے کی تنخواہیں بھی واپس دی جائیں گی۔
13 مئی 2024 کو مجموعی طور پر 77 ارکان کو معطل کر دیا گیا تھا، جس کے ساتھ ہی ان کی تنخواہیں اور مراعات روک لی گئی تھیں۔ قومی اسمبلی کے معطل شدہ 22 ارکان میں 19 خواتین اور 3 اقلیتی نمائندے شامل تھے۔ اب ذرائع کا کہنا ہے کہ ان 22 میں سے 19 ارکان کی بحالی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ باقی تین نشستوں پر بحالی کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ذرائع نے بتایا کہ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ ان ارکان کو 13 مئی 2024 سے لے کر عدالتی فیصلے کی تاریخ تک بنیادی تنخواہ دی جائے گی۔ تاہم، اس مدت کے دوران انہیں کوئی ٹی اے ڈی اے یا دیگر الاؤنسز ادا نہیں کیے جائیں گے۔ عدالتی حکم کے مطابق 13 مئی سے 31 دسمبر 2024 تک ہر رکن کو ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی، جبکہ یکم جنوری 2025 سے عدالتی فیصلے تک بڑھائی گئی تنخواہ کے مطابق ادائیگی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ صوبائی اسمبلیوں کے 55 ارکان کو بھی معطلی کے عرصے کی تنخواہیں ادا کی جائیں گی، جو متعلقہ اسمبلی ایکٹ کے تحت ہوں گی۔