نئی تحقیق: بظاہر بھولی ہوئی یادیں دماغ سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بظاہر بھولی ہوئی کچھ یادیں دماغ سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں بلکہ خاموش حالت میں محفوظ رہ سکتی ہیں، جنہیں مناسب ماحول یا کسی خاص یاددہانی کے ذریعے دوبارہ فعال کیا جاسکتا ہے۔
سائنس دانوں نے پھلوں کی مکھیوں پر کیے گئے تجربات میں دیکھا کہ جس ماحول میں کوئی یاد تشکیل پاتی ہے، اسی سے ملتا جلتا ماحول دوبارہ فراہم کرنے پر وہ یاد دوبارہ فعال ہوسکتی ہے۔
محققین کے مطابق اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ بعض یادیں مکمل طور پر مٹنے کے بجائے دماغ میں ایسی حالت اختیار کرلیتی ہیں جہاں انہیں فوری طور پر یاد کرنا ممکن نہیں ہوتا، تاہم مناسب اشارہ ملنے پر وہ دوبارہ ذہن میں آسکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی یادداشت ایک انتہائی پیچیدہ اور ناقص نظام ہے۔ کچھ یادیں وقت کے ساتھ کمزور ہوجاتی ہیں، جبکہ بعض بظاہر غائب ہونے کے باوجود کسی مخصوص منظر، جگہ، خوشبو یا دوسرے اشارے کے ذریعے اچانک واپس آسکتی ہیں۔
تاہم محققین کے مطابق دماغ حقیقی یادوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بعض اوقات جھوٹی یادیں کیوں اور کیسے تشکیل دیتا ہے، اس عمل کو ابھی مکمل طور پر سمجھا نہیں جاسکا۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ حقیقی یادوں کی بازیابی اور غلط یادوں کی تشکیل کے پیچھے موجود عصبی عمل اب بھی سائنس کے لیے ایک اہم سوال ہیں۔
محققین کے مطابق یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ یادیں دماغ میں کس طرح محفوظ رہتی ہیں اور انہیں دوبارہ فعال کرنے میں ماحول اور بیرونی اشارے کس طرح کردار ادا کرتے ہیں۔












