عالمی غذائی بحران کا خدشہ، پاکستان کو ہنگامی اقدامات کا مشورہ
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ممکنہ عالمی غذائی بحران اور کھاد کی قلت سے بچنے کے لیے پاکستان کو جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق حکومت کو کھاد اور زرعی ادویات بنانے والی کمپنیوں کے مفادات کے بجائے کسانوں کو قدرتی ذرائع سے کھاد اور زرعی اسپرے تیار کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ گوبر، چارے، پتوں اور دیگر قدرتی اجزا سے کھاد تیار کرنے کے روایتی طریقوں کو فروغ دینے کے لیے ملک گیر آگاہی مہم چلانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت سمیت خطے کے کئی ممالک چند دہائیاں قبل تک قدرتی کھادوں کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ عالمی سطح پر کھاد کی ممکنہ قلت کے پیش نظر گندم اور چاول کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ اجناس ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں مویشیوں کے گوبر، چارے اور پتوں سے نہ صرف قدرتی کھاد تیار کی جاسکتی ہے بلکہ بائیو گیس بھی پیدا کی جاسکتی ہے، جس سے توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ بڑے شہروں کے کچرے کو بھی بائیو گیس اور کھاد کی تیاری کے لیے استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پام آئل کی درآمد کم کرنے پر زور
زرعی ماہرین کے مطابق درست پالیسیوں کے ذریعے پاکستان ممکنہ بحران کو خوراک اور توانائی میں خودکفالت کے موقع میں تبدیل کرسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ہر سال پام آئل کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں، جبکہ سرسوں، مونگ پھلی، ناریل، السی، تل اور سورج مکھی جیسے تیل دار بیجوں کی پیداوار بڑھا کر پام آئل پر انحصار کم کیا جاسکتا ہے۔
ان کے مطابق حکومت اگر مؤثر اقدامات کرے تو 2027 میں ملک کو خوردنی تیل اور بنیادی خوراک کے معاملے میں خودکفیل بنانے کی سمت پیش رفت ممکن ہے۔
2027 میں عالمی غذائی مہنگائی کا خدشہ
واضح رہے کہ امریکی مالیاتی ادارے جے پی مورگن نے خبردار کیا ہے کہ 2027 میں دنیا کو غذائی قلت اور مہنگائی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کھاد کی ممکنہ قلت، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور طاقتور ال نینو عالمی غذائی پیداوار اور رسد کو متاثر کرسکتے ہیں۔ جے پی مورگن کے اندازے کے مطابق 2027 کی پہلی ششماہی میں عالمی غذائی مہنگائی تقریباً 5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ 2026 کی پہلی ششماہی میں یہ شرح 2.8 فیصد رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ عالمی یوریا اور امونیا کی پیداوار و برآمد میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے آبنائے ہرمز کے گرد طویل رکاوٹ یا کشیدگی عالمی سطح پر کھاد کی فراہمی اور قیمتوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق قدرتی گیس نائٹروجن کھاد، خصوصاً یوریا کی تیاری میں بنیادی خام مال ہے، اس لیے گیس کی قیمتوں میں اضافے سے کھاد کی پیداواری لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔ مہنگی کھاد کے باعث کسان اس کا استعمال کم کریں تو فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
جے پی مورگن کے مطابق کھاد بنانے کی صلاحیت بحال کرنے میں ایک سے چار سال جبکہ بعض قدرتی گیس تنصیبات کو معمول پر آنے میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں ال نینو کو بھی عالمی غذائی بحران کا اہم خطرہ قرار دیا گیا ہے۔













