صومالیہ کے قریب آئل ٹینکر کی بازیابی کے دوران تین پاکستانی شہری ہلاک
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ صومالیہ کے ساحل کے قریب مسلح قزاقوں کے قبضے سے آئل ٹینکر ’ایم ٹی آنر 25‘ کو چھڑانے کے آپریشن کے دوران تین پاکستانی شہری ہلاک ہوئے۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے پاکستانی شہریوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے ناموں سے ہوئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش کے دوران عملے کے چار ارکان زخمی بھی ہوئے، جن میں تین پاکستانی شہری شامل ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق ’ایم ٹی آنر 25‘ کے زندہ بچ جانے والے عملے کے ارکان کو بحفاظت بندر بیلا منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پُنٹ لینڈ کے نائب وزیر اطلاعات بلی قابوسادے نے کہا تھا کہ مقامی سکیورٹی فورسز کے آئل ٹینکر تک پہنچنے اور اس کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے سے قبل قزاقوں نے عملے کے پانچ ارکان کو ہلاک کر دیا تھا۔
بلی قابوسادے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین پاکستانی، ایک بھارتی اور میانمار کا ایک شہری شامل ہے، جبکہ عملے کے مزید چار ارکان زخمی ہوئے، جن میں تین پاکستانی اور ایک بھارتی شہری شامل ہیں۔
’ایم ٹی آنر 25‘ تقریباً 18,500 بیرل تیل لے کر صومالی دارالحکومت موغادیشو جا رہا تھا۔ اپریل 2026 میں صومالیہ کے ساحل کے قریب سفر کے دوران مسلح قزاقوں نے آئل ٹینکر پر قبضہ کر لیا تھا۔












