پلاسٹک کی بوتلوں کے خلاف سندھ حکومت کا سخت فیصلہ

تمام سرکاری دفاتر میں پلاسٹک والی پانی کی بوتلوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے

پلاسٹک کی بوتلوں کے خلاف سندھ حکومت کا سخت فیصلہ

سندھ حکومت نے ماحولیاتی تحفظ اور پلاسٹک کے فضلے کو کم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے صوبے کے تمام سرکاری دفاتر میں پلاسٹک والی پانی کی بوتلوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پابندی کا مقصد نہ صرف ماحولیات کو بہتر بنانا ہے بلکہ دفاتر میں صحت مند اور پائیدار طریقوں کو فروغ دینا بھی ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ صوبے کے تمام سرکاری دفاتر میں فوری طور پر پلاسٹک کی بوتلوں کے استعمال کو بند کر دیا جائے۔ اس فیصلے کے تحت اب سرکاری دفاتر میں پانی کے لیے پلاسٹک کی بوتلوں کی جگہ روایتی اور ماحول دوست جگ اور گلاس کا استعمال کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ سندھ کابینہ کے ایک اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبائی وزراء اور ماہرین نے ماحولیاتی مسائل پر تفصیلی غور کیا۔ اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ پلاسٹک کے فضلے کی وجہ سے زمین اور پانی کی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ نہ صرف ماحول کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ انسانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ کابینہ کے اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے، جس کے نتیجے میں یہ پابندی عائد کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کی بوتلیں ایک بڑی مقدار میں غیر بائیوڈیگریڈ ایبل مواد پر مشتمل ہوتی ہیں، جو زمین میں دفن ہونے پر طویل عرصے تک باقی رہتی ہیں اور ماحول کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، پلاسٹک کے ذرات پانی اور کھانے میں شامل ہو کر انسانی صحت کے لیے بھی مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔ سندھ حکومت کا یہ اقدام اس مسئلے کے حل کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔

سرکاری دفاتر میں پلاسٹک کی بوتلوں کے بجائے جگ اور گلاس کے استعمال کا فیصلہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ یہ ایک روایتی اور پائیدار طریقہ بھی ہے۔ یہ اقدام پلاسٹک کے فضلے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا اور دفاتر میں صحت مند ماحول کے فروغ میں بھی معاون ہوگا۔

سندھ حکومت کے اس اقدام کو ماحولیاتی تنظیموں اور ماہرین کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیگر صوبوں اور اداروں کو بھی اس فیصلے سے سبق لینا چاہیے اور پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدام ایک چھوٹا سا قدم لگتا ہے، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات بہت مثبت ہوں گے۔ پلاسٹک کے فضلے میں کمی اور روایتی طریقوں کے فروغ سے نہ صرف ماحول کو فائدہ پہنچے گا بلکہ اس سے عوام میں شعور بیدار ہوگا اور وہ بھی اپنی روزمرہ زندگی میں پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

سندھ حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف ایک ماحولیاتی دوست اقدام ہے بلکہ یہ ایک ایسی پالیسی ہے جو مستقبل میں دیگر اداروں اور حکومتوں کے لیے مشعل راہ بن سکتی ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اس فیصلے سے صوبے میں ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی اور عوام میں ماحول دوست رویوں کو فروغ ملے گا۔

web

Recent Posts

گاڑیوں کی تعداد میں 770 فیصد سے زائد اضافہ، فضائی آلودگی سنگین ہوگئی

گاڑیوں کی تعداد میں 770 فیصد سے زائد اضافہ، فضائی آلودگی سنگین ہوگئی اسلام آباد: پاکستان میں گاڑیوں کی تعداد…

3 دن ago

سوات میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک

سوات میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک سوات: محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) اور…

3 دن ago

پشاور میں اسکول منہدم، مالک نے حادثے کی وجہ بارشیں قرار دے دی

پشاور میں اسکول منہدم، مالک نے حادثے کی وجہ بارشیں قرار دے دی پشاور: منہدم ہونے والے نجی اسکول کے…

3 دن ago

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق ایوان کا اختیار ہے: اعظم نذیر تارڑ

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق ایوان کا اختیار ہے: اعظم نذیر تارڑ اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون…

3 دن ago

خیبرپختونخوا کے محکمہ معدنیات میں 16 ارب 94 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں

خیبرپختونخوا کے محکمہ معدنیات میں 16 ارب 94 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں اسلام آباد: آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ…

3 دن ago

لاہور میں آوارہ کتے کا میو اسپتال کے ڈاکٹر پر حملہ، ٹانگ پر 2 زخم

  لاہور کے اقبال ٹاؤن میں آوارہ کتے نے حملہ کرکے میو اسپتال کے ڈاکٹر نعمان کو زخمی کردیا۔ ترجمان…

2 ہفتے ago