فائل فوٹو
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کرم امن معاہدے کے بعد اگر کوئی فریق لشکر کشی کرے گا تو اسے دہشت گرد قرار دے کر سخت کارروائی کی جائے گی۔
صوبائی مشیر اطلاعات، بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں کہا کہ ہفتے کے روز علاقے کے سفر کرنے والے قافلے کے لیے مکمل حفاظتی اور سفری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایپکس کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں کرم کے علاقے کو اسلحے اور بنکرز سے پاک کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
امن معاہدے کے مطابق، دونوں فریقین کو 15 دنوں کے اندر اسلحہ جمع کرنے کے لیے مربوط لائحہ عمل پیش کرنا ہوگا۔ اسلحہ کی نمائش اور استعمال پر مکمل پابندی ہوگی، اور اسلحہ خریدنے کے لیے چندہ جمع کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ فریقین کے ہر قسم کے نئے بنکرز کی تعمیر پر پابندی ہوگی، اور پہلے سے موجود بنکرز ایک ماہ کے اندر مکمل طور پر ختم کیے جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر بنکرز کی مسماری کے بعد کسی بھی فریق نے لشکر کشی کی کوشش کی، تو انہیں دہشت گرد تصور کرتے ہوئے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
عام طور پر کتوں کو وفاداری کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن جنوبی امریکی ملک بولیویا میں ایک مرغے…
لاہور میں انسولین کے بعد انفلوئنزا (فلو) سے بچاؤ کی ویکسین بھی مارکیٹ سے غائب ہوگئی، جبکہ دستیاب ویکسین…
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی سب سے طویل ٹرین کس ملک سے تعلق رکھتی ہے؟ جنوبی افریقا…
ایپل نے رواں سال اسٹینڈرڈ آئی فون 18 اور آئی فون ایئر 2 متعارف نہیں کرائے، تاہم نئی لیک…
ملتان: 15 سالہ وسیم عباس کی کار سے کچلے جانے کے بعد غیر رجسٹرڈ یتیم خانے کے خلاف کارروائی ملتان…
کراچی: ایچ آئی وی سے متاثرہ 157 بچوں کی ماؤں کو ماہانہ 40 ہزار روپے امداد دینے کا عمل شروع…