نئی دہلی: الجزیرہ کے مطابق پاکستان کے پاس لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار جوابی کارروائی کے کئی آپشنز موجود ہیں، تاہم وہ عالمی سطح پر جنگ کو ہوا دینے والا فریق بننے سے گریز کی پالیسی اختیار کرے گا۔
سینٹر فار پالیسی ریسرچ، نئی دہلی کے سینیئر فیلو گلس ورنیرز نے کہا ہے کہ پاکستان توازن اور تناسب میں رہنے والے ردعمل کی کوشش کرے گا، تاکہ عالمی برادری کے سامنے ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا مؤقف پیش کر سکے۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کریں گے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آیا ماضی کی طرح اس بار بھی سفارتی اعتدال پسندی مؤثر ثابت ہوگی یا نہیں۔ تجزیہ کار کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ برسوں میں کوئی باضابطہ سفارتی رابطہ موجود نہیں رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت اندرونی سیاسی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ امریکا کا خطے پر اثر و رسوخ 2020 میں افغانستان سے انخلا کے بعد کمزور ہو چکا ہے۔ ان تمام عوامل کی موجودگی میں حالیہ بحران مزید غیر یقینی اور پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
گاڑیوں کی تعداد میں 770 فیصد سے زائد اضافہ، فضائی آلودگی سنگین ہوگئی اسلام آباد: پاکستان میں گاڑیوں کی تعداد…
سوات میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک سوات: محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) اور…
پشاور میں اسکول منہدم، مالک نے حادثے کی وجہ بارشیں قرار دے دی پشاور: منہدم ہونے والے نجی اسکول کے…
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق ایوان کا اختیار ہے: اعظم نذیر تارڑ اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون…
خیبرپختونخوا کے محکمہ معدنیات میں 16 ارب 94 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں اسلام آباد: آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ…
لاہور کے اقبال ٹاؤن میں آوارہ کتے نے حملہ کرکے میو اسپتال کے ڈاکٹر نعمان کو زخمی کردیا۔ ترجمان…