پی ٹی آئی والے آج رات 12 بجے تک آ جائیں، وزیرِ اعظم نے مذاکرات کی آفر کی ہے، رانا ثنا اللہ

پی ٹی آئی والے 10 سال بعد مذاکرات کے لیے بیٹھے اور 10 دن بعد ہی بھاگ گئے: حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا رکن

پی ٹی آئی والے آج رات 12 بجے تک آ جائیں، وزیرِ اعظم نے مذاکرات کی آفر کی ہے، رانا ثنا اللہ

وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور اور پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے رکن رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما جب بھی چاہیں ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکتے ہیں، اگر وہ ہمیں اپنی بات پر قائل کر لیتے ہیں تو ہم ان کی بات بھی مان سکتے ہیں۔

نجی چینل کے پروگرام "جیو پاکستان” میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے انتظار میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں، ڈائیلاگ کرنا بنیادی شرط ہے۔ وزیر اعظم نے انہیں مذاکرات کی پیشکش کی ہے، وہ آج رات 12 بجے تک آسکتی ہیں یا بعد میں بھی آئیں، ہم ان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی والے اپنی چار سالہ حکومت کے دوران مقدمات بناتے رہے جبکہ ہم ان سے بات چیت کے لیے تیار تھے، ملک کی بہتری کے لیے ہم ان کے ساتھ بات ضرور کریں گے۔ جب ہم اپوزیشن میں تھے تو شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے بانی سے بھی بات کرنے کی کوشش کی تھی۔

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی کمیٹی آکر بات کرے، ہم انہیں اپنے موقف پر قائل کر سکتے ہیں، مگر اگر ماضی کی طرح وہ مذاکرات سے بھاگ جائیں تو یہ ان کی عادت ہے۔ انہوں نے 10 سال بعد بیٹھے لیکن 10 دن بعد ہی فرار ہو گئے۔

انہوں نے 2018 کے انتخابات کے بعد کی دھاندلی کی تحقیقات کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ اگر واقعی حقائق جاننے ہیں تو پارلیمانی کمیشن بنایا جائے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کے ساتھ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے، اگر کوئی اور بھی آئے تو وہ بھی تو یہی کرے گا۔ اس قسم کی سیاست کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو ضرور نقصان ہوگا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے صوبے کی معیشت اور امن و امان کو متاثر کر دیا ہے، انہیں عوام کی بھلائی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اگر کوئی اور بھی آئے تو وہ بھی وہی کرے گا جو گنڈا پور کر رہا ہے، اور اس سے پی ٹی آئی کو بڑا نقصان ہوگا۔

دوسری طرف، بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ حکومت جوڈیشل کمیشن سے رکتی رہی ہے اور ہم نے حکومتی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے ہیں کیونکہ وہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن اتحاد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پرامن احتجاج کرنا ہمارا جمہوری حق ہے۔

web

Recent Posts

دوغلی امن پالیسی

دوغلی امن پالیسی عمر فاروق سٹوڈنٹ آف لا کونٹری یونیورسٹی لندن پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا…

2 مہینے ago

وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ…

8 مہینے ago

اسلام آباد پولیس کے ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر مبینہ طور پر خودکشی کے باعث جاں بحق

اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کی خبر نے دارالحکومت کی…

8 مہینے ago

فرانس نے لوور میوزیم میں قیمتی شاہی زیورات چرانے والوں کی تلاش تیز کر دی

فرانسیسی پولیس نے منگل کے روز اُن چوروں کی تلاش تیز کر دی جنہوں نے لوور میوزیم سے قیمتی شاہی…

8 مہینے ago

طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی خبریں بے بنیاد، افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی پاکستان کے لیے مستقل خطرہ، دفتر خارجہ

اسلام آباد (ایم وائے کے نیوز ٹی وی) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے…

11 مہینے ago