جب بھی آپ گاڑی کا ٹرن سگنل آن کرتے ہیں تو ایک مخصوص ردھم میں کلک، کلک کی آواز سنائی دیتی ہے، جبکہ ڈیش بورڈ پر تیر کا نشان بھی اسی رفتار سے جلتا اور بجھتا رہتا ہے۔
اگرچہ آٹو موبائل ٹیکنالوجی میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بے پناہ ترقی ہوئی ہے، لیکن یہ آواز آج بھی تقریباً ہر گاڑی کا حصہ ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ٹرن سگنل سے یہ آواز کیوں آتی ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس آواز کی وجہ وقت کے ساتھ بدل چکی ہے، اگرچہ آواز آج بھی برقرار ہے۔
ٹرن سگنل کا استعمال پہلی بار 1930 کی دہائی کے آخر میں گاڑیوں میں عام ہونا شروع ہوا۔ اس زمانے میں ٹرن سگنل کے نظام میں ایک تھرمل فلیشر استعمال کیا جاتا تھا، جس میں دو دھاتی پٹیاں یا اسپرنگ بجلی گزرنے سے گرم ہو کر مڑ جاتے تھے۔
جب ڈرائیور ٹرن سگنل آن کرتا تو برقی رو ان دھاتی پٹیوں کو گرم کرتی۔ گرمی کے باعث وہ مڑ کر ایک دوسرے سے جڑ جاتیں، جس سے سرکٹ مکمل ہوتا اور سگنل لائٹس روشن ہو جاتیں۔
چند لمحوں بعد یہ دھاتی پٹیاں ٹھنڈی ہو کر اپنی اصل حالت میں واپس آ جاتیں، سرکٹ ٹوٹ جاتا اور لائٹس بند ہو جاتیں۔ یہی عمل بار بار دہرایا جاتا، جس سے ٹرن سگنل مسلسل جلتا اور بجھتا رہتا تھا۔
اسی دوران دھاتی پٹیوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی کلک، کلک کی آواز ڈرائیور کو سنائی دیتی تھی۔
بعد ازاں اس تھرمل نظام کی جگہ الیکٹرو میگنیٹ اور پھر الیکٹرانک سرکٹس نے لے لی، جو چِپس کے ذریعے برقی لہروں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس تبدیلی کے بعد کلک کی آواز پیدا ہونا تکنیکی طور پر ضروری نہیں رہا۔
آج کل زیادہ تر جدید گاڑیوں میں ٹرن سگنل مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے چلایا جاتا ہے، تاہم مینوفیکچررز جان بوجھ کر اسپیکر کے ذریعے وہی کلک، کلک کی مصنوعی آواز برقرار رکھتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈرائیور برسوں سے اس آواز کے عادی ہیں۔ اگر ٹرن سگنل خاموشی سے کام کرے تو بہت سے ڈرائیور یہ محسوس ہی نہیں کر پائیں گے کہ سگنل اب بھی آن ہے، جس سے الجھن یا غلطی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔













