محسن نقوی نے ایک معاشی سمٹ سے خطاب میں کہا کہ موجودہ نظام "ڈھے چکا ہے” اور صرف زیادہ گھنٹے کام کرنے سے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق پاکستان میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اختیارات عوام کے قریب منتقل کیے جا سکیں۔
اس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف (ڈی جی آئی ایس پی آر) کے بیان کو بعض مبصرین نے نئے صوبوں کی تجویز کی بالواسطہ حمایت قرار دیا، جس سے سیاسی بحث مزید تیز ہو گئی۔
حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اس معاملے پر باضابطہ پالیسی بیان جاری نہیں کیا، تاہم وفاقی وزرا خواجہ آصف اور رانا ثناء اللہ نے محسن نقوی کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے تو اس کا آغاز اپنی وزارت سے ہونا چاہیے۔
اس بحث کے نتیجے میں کئی سوالات سامنے آئے:
کیا نئے صوبے بنانے سے گورننس بہتر ہوگی؟
پاکستان کے انتظامی مسائل کی اصل وجہ کیا ہے؟
اسٹیبلشمنٹ کا نام اس بحث سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟
کیا نئے صوبے بننے سے مسائل حل ہو سکتے ہیں؟
اس پر مختلف آراء موجود ہیں:
حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس سے عوامی خدمات، ترقیاتی منصوبوں اور مقامی انتظامیہ کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔
ناقدین کے مطابق صرف نئے صوبے بنا دینا کافی نہیں؛ اگر ادارہ جاتی اصلاحات، شفاف طرزِ حکمرانی، احتساب، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مؤثر انتظام نہ ہو تو نئے صوبے بھی انہی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
لہٰذا اس سوال کا کوئی متفقہ جواب موجود نہیں۔ یہ ایک سیاسی اور آئینی بحث ہے، اور اس کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ انتظامی تبدیلیوں کے ساتھ دیگر اصلاحات بھی کی جاتی ہیں یا نہیں۔











