مراد علی شاہ: تھر کول منصوبہ کامیاب ماڈل ہے، صوبوں کی تقسیم پر آئینی طریقہ کار اپنایا جائے Murad Ali Shah نے کہا ہے کہ جو لوگ نظام کے ناکام ہونے کی بات کرتے ہیں وہ تھر کے کامیاب منصوبوں کا معائنہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر آئینی طریقہ کار موجود ہے اور اس معاملے پر عوامی جذبات کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ اہم نکات: وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق نئے صوبے بنانے کے لیے آئین میں دو تہائی اکثریت کا طریقہ کار موجود ہے۔ سندھ اسمبلی متعدد بار نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں پر بحث ہو سکتی ہے، لیکن فیصلہ آئینی طریقے سے ہونا چاہیے۔ احتجاج کو عوام کا حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج ایسا ہونا چاہیے جس سے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سندھ کابینہ نے 5 لاکھ ٹن گندم کی منظوری دی ہے، جبکہ حکومت نے 10 لاکھ ٹن گندم خریدنے کی گنجائش رکھی ہے تاکہ مقامی کسانوں کو تحفظ دیا جا سکے۔ تھر کول منصوبے سے متعلق: وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تھر کول کی کامیابی حکومت، سرمایہ کاروں اور مقامی آبادی کے تعاون کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق تھر کا ماڈل پاکستان کے دیگر معدنی منصوبوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ کان کنی کے منصوبوں کی کامیابی کے لیے مقامی آبادی کو شامل کرنا ضروری قرار دیا گیا۔ Sindh Engro Coal Mining Company کے سی ای او عامر اقبال نے کہا کہ: کانفرنس میں جرمنی، برطانیہ، جاپان اور مشرق وسطیٰ کے ماہرین نے شرکت کی۔ پاکستان میں سونے اور تانبے سمیت معدنی ذخائر موجود ہیں جنہیں جدید کان کنی کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مقامی اور غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں مائننگ کے مواقع میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ بنیادی چیلنج سرمایہ کاری سے زیادہ انفرااسٹرکچر کی کمی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ: کول ٹو فرٹیلائزر گیسیفیکیشن منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ 2028 میں گرڈ سے بجلی لینے کا منصوبہ ہے جس سے کوئلے کی لاگت کم ہو سکتی ہے۔ تھر کول فیز تھری کے افتتاح کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو اکتوبر میں دعوت دی گئی ہے۔













