سیلاب کے خلاف بند نہیں، اعتماد تعمیر کرنے کا منصوبہ

*سیلاب کے خلاف بند نہیں، اعتماد تعمیر کرنے کا منصوبہ*
پاکستان اور جاپان کے درمیان سندھ میں سیلاب سے تحفظ کے منصوبے کے لیے 2.58 ارب جاپانی ین، یعنی تقریباً 16.4 ملین امریکی ڈالر کی گرانٹ کا معاہدہ محض مالی معاونت کی خبر نہیں، بلکہ یہ پاکستان کو درپیش ایک دیرینہ اور سنگین مسئلے کی طرف توجہ دلانے کا موقع بھی ہے۔ ہر چند سال بعد آنے والے تباہ کن سیلاب ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ قدرتی آفات کو روکا تو نہیں جا سکتا، لیکن بہتر منصوبہ بندی، مضبوط انفراسٹرکچر اور بروقت تیاری سے ان کے نقصانات کو نمایاں طور پر کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔
اس منصوبے کے تحت لاڑکانہ کے علاقے میں دریائے سندھ کے دائیں کنارے واقع اولڈ آباد بند کو بہتر اور مضبوط بنایا جائے گا۔ سندھ کے کئی علاقے جغرافیائی طور پر سیلاب کے خطرات سے دوچار ہیں۔ دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے یا بند کمزور ہونے کی صورت میں صرف فصلیں اور مکانات ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگی، روزگار، تعلیم اور صحت کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔
ہم نے ماضی میں دیکھا کہ سیلاب کا پانی چند گھنٹوں میں کئی دہائیوں کی محنت بہا لے جاتا ہے۔ کھڑی فصلیں تباہ ہوتی ہیں، سڑکیں ٹوٹتی ہیں، مویشی مر جاتے ہیں اور لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ حکومتوں کو بعد ازاں امدادی سرگرمیوں، عارضی رہائش اور تعمیرِ نو پر بھاری اخراجات کرنا پڑتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر انہی وسائل کا ایک حصہ پہلے سے حفاظتی اقدامات پر خرچ کیا جائے تو کیا بڑے پیمانے پر ہونے والے انسانی اور معاشی نقصان کو کم نہیں کیا جا سکتا؟
پاکستان اور جاپان کے درمیان ہونے والا حالیہ معاہدہ اسی پیشگی تیاری کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ جاپان نے دنیا بھر میں قدرتی آفات سے نمٹنے، زلزلہ مزاحم تعمیرات(Earthquake-resistant construction)، آبی نظم و نسق اور جدید حفاظتی نظام قائم کرنے میں قابلِ ذکر مہارت حاصل کی ہے۔ پاکستان کے لیے جاپانی مالی معاونت کے ساتھ اس کا فنی تجربہ اور منصوبہ بندی کی صلاحیت بھی انتہائی اہم ہو سکتی ہے۔
جاپان طویل عرصے سے پاکستان کا قابلِ اعتماد ترقیاتی شراکت دار رہا ہے۔ تعلیم، صحت، مواصلات، پانی، توانائی اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت متعدد شعبوں میں جاپانی تعاون کے مثبت اثرات موجود ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ جاپان کی ترقیاتی معاونت عموماً منصوبہ بندی، معیار اور دیرپا نتائج کو اہمیت دیتی ہے۔ اس لیے اولڈ آباد بند کا منصوبہ بھی صرف تعمیراتی سرگرمی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے پاکستان میں سیلاب سے تحفظ کے ایک مؤثر اور قابلِ تقلید نمونے میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔
تاہم اصل امتحان معاہدے پر دستخط نہیں بلکہ اس منصوبے کی شفاف اور بروقت تکمیل ہے۔ پاکستان میں کئی اچھے منصوبے انتظامی تاخیر، کمزور نگرانی، سیاسی مداخلت اور ناقص تعمیراتی معیار کی وجہ سے مطلوبہ نتائج نہیں دے پاتے۔ اس منصوبے کے لیے واضح مدت، تعمیر کے معیار کی آزادانہ جانچ اور اخراجات کی مسلسل نگرانی ناگزیر ہے۔ مقامی آبادی اور ماہرین کو بھی پیش رفت سے باخبر رکھا جانا چاہیے تاکہ عوامی اعتماد قائم ہو اور ممکنہ خامیوں کی بروقت نشاندہی ہوسکے۔
سیلاب سے تحفظ کی حکمتِ عملی صرف ایک بند کو مضبوط بنانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ دریاؤں اور نہروں کی نگرانی، نکاسی آب کے نظام کی بہتری، موسمیاتی پیش گوئی، بروقت وارننگ، ہنگامی انخلا کے راستوں اور مقامی سطح پر تربیت کو بھی اس کا حصہ بنانا ہوگا۔ بند مضبوط ہو لیکن تجاوزات، پانی کے قدرتی راستوں کی بندش اور ناقص نکاسی برقرار رہے تو خطرہ اپنی جگہ موجود رہے گا۔
موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کے لیے صورتحال مزید تشویش ناک بنا دی ہے۔ بارشوں کے معمولات تبدیل ہو رہے ہیں اور مختصر وقت میں غیر معمولی مقدار میں پانی برسنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان عالمی آلودگی میں نسبتاً کم حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس پس منظر میں عالمی شراکت داروں سے گرانٹس اور تکنیکی معاونت حاصل کرنا پاکستان کا جائز حق ہے، لیکن اپنی داخلی ذمہ داری سے پہلو تہی نہیں کی جا سکتی۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سیلاب سے تحفظ کے لیے مستقل اور مربوط قومی پالیسی بنانا ہوگی۔ ہر بڑے سیلاب کے بعد ہنگامی امداد کی اپیل کرنا مستقل حل نہیں۔ ہمیں ردعمل پر مبنی حکمتِ عملی سے نکل کر خطرات کی پیشگی روک تھام کی طرف جانا ہوگا۔ جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ ڈیٹا، دریاؤں کی حقیقی وقت میں نگرانی اور مقامی آبادی کی تربیت پر سرمایہ کاری اب انتخاب نہیں بلکہ ضرورت ہے۔
پاکستانی قوم جاپان کی حکومت اور عوام کی اس فراخدلانہ معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور ترقیاتی تعاون کا ایک اور مظہر ہے۔ لیکن جاپانی تعاون کا حقیقی احترام اسی وقت ہوگا جب فراہم کردہ ایک ایک ین درست جگہ خرچ ہو، تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبے کے ثمرات واقعی اِن خاندانوں تک پہنچیں جو ہر مون سون میں خوف کے سائے میں زندگی گزارتے ہیں۔
اولڈ آباد بند کو مضبوط کرنا دراصل صرف مٹی، پتھر اور کنکریٹ کی دیوار تعمیر کرنا نہیں؛ یہ انسانی جانوں، گھروں، فصلوں اور مستقبل کا تحفظ ہے۔ اگر اس منصوبے کو شفافیت، دیانت داری اور جدید فنی معیار کے مطابق مکمل کیا گیا تو یہ پاک جاپان دوستی کی ایک مضبوط علامت اور پاکستان کی قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اہم اضافہ ثابت ہوسکتا ہے۔
اب ذمہ داری ہماری ہے کہ اس گرانٹ کو محض ایک سفارتی تقریب کی خوبصورت تصویر نہ بننے دیں، بلکہ اسے سندھ کے عوام کے لیے حقیقی تحفظ اور محفوظ مستقبل میں تبدیل کریں۔

*بقلم*
*کاشف شہزاد*

web

Recent Posts

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے جج کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ جسٹس راحیل کامران شیخ 7 مئی 2021…

6 دن ago

الیکٹرک بائیک اسکیم: مریم نواز نے طلبہ سے ڈاؤن پے منٹ کی وصولی روک دی

مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں طلبہ کیلئے ماہانہ 3 ہزار روپے قسط پر ای بائیک دینے کی تجویز…

6 دن ago

لاہور ہائیکورٹ نے تمباکو اور پان کی تشہیر کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے استعفے سے قبل اپنا آخری فیصلہ جاری کردیا، فیصلہ سگریٹ، پان اور…

6 دن ago

مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا کیس: ثاقب چدھڑ اور اہلیہ سے متعلق رپورٹ پیش

لاہور: این سی سی آئی اے نے اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کے کیس میں (ن)…

6 دن ago

ہراسانی کیس: این سی سی آئی اے نے مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑکو دوبارہ نوٹسز جاری کردیے

این سی سی آئی اے کے مطابق نئے ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر اداکارہ مومنہ اقبال اور ایم پی اے…

6 دن ago