پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ریڈ لائن ہے، بھارت کو براہِ راست جواب دیں گے: وزیراعظم
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا قابلِ قبول نہیں، پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے۔ ہم جنگ نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں، تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، بھارت راہِ راست پر نہ آیا تو اسے براہِ راست جواب دیا جائے گا۔
اسلام آباد میں معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی کی یاد میں قائم یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے پوری قوم کو جشنِ آزادی کی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے قوم کو غلامی کے اندھیروں سے نجات دلا کر آزادی دلائی، جبکہ معرکۂ حق کی کامیابی پر پوری قوم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ یادگارِ فتح افواجِ پاکستان کی برتری کی علامت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل اور افواجِ پاکستان کو معرکۂ حق میں کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس معرکے میں قوم کا سر فخر سے بلند ہوا اور دشمن کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت پاکستان کو شکست نہیں دے سکتی۔ پاکستان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کرے۔ پاکستان ہم سب کا ہے اور اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں استحکام کی علامت بن چکا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ دنیا نئے تنازعات سے محفوظ رہے۔ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا، جبکہ ترکیہ بھی مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن چکا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی علامت ہے۔
انہوں نے فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے لیے پاکستان کا مؤقف دوٹوک ہے اور ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
شہباز شریف نے افغانستان کی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
وزیراعظم نے پاک بھارت جنگ بندی میں کردار ادا کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بروقت جنگ بندی کروا کر لاکھوں جانیں بچائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔