اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال برقرار رکھنے کے باعث پارٹی قیادت اور حکام کے درمیان حالیہ رابطے کسی پیشرفت کے بغیر ختم ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطوں سے باخبر ذرائع کے مطابق مجوزہ مارچ کے باعث بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں حالیہ دنوں میں مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران یہ امکان زیرِ غور آیا کہ اگر پی ٹی آئی 27 ستمبر کی احتجاجی سرگرمی منسوخ کردے اور مستقبل میں طویل دھرنوں، سڑکوں کی بندش یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کی یقین دہانی کرائے تو کشیدگی کم کرنے کی راہ نکالی جاسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکام کی جانب سے بعض معاملات میں نرمی یا سہولت فراہم کرنے کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں، جن میں بشریٰ بی بی کی بنی گالا منتقلی، عمران خان کو طبی علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کے انتظامات اور ملاقاتوں میں مزید سہولت شامل تھی۔ تاہم ذرائع کے مطابق مجوزہ سہولیات کو اس امر سے مشروط کیا گیا کہ جیل سے سیاسی سرگرمیاں منظم یا جاری نہ کی جائیں۔
مذاکرات سے واقف افراد کے مطابق عمران خان سے ملاقاتوں میں قواعد کے مطابق سہولت فراہم کی جاسکتی ہے، تاہم جیل سے سیاسی تحریک چلانے یا سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہ دینے کا مؤقف برقرار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان رابطوں کے باوجود دونوں فریق کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی 27 ستمبر کے مارچ کے انعقاد کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی احتجاجی سرگرمیوں میں خیبر پختونخوا سے بڑی تعداد میں کارکنوں کی شرکت متوقع ہے، جبکہ دیگر صوبوں سے بھی کارکنوں کو اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج اور مارچ میں شرکت کی ہدایات دی گئی ہیں۔ پارٹی قیادت نے مارچ کی تفصیلات اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق مزید اعلان کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی مارچ کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہوگی، تاہم دارالحکومت میں احتجاج کی حتمی صورتِ حال زمینی حالات اور حکومتی اقدامات سے بھی جڑی ہوگی۔
ادھر حکومت نے واضح کیا ہے کہ احتجاج کے دوران قانون کی پابندی یقینی بنائی جائے گی، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ وہ احتجاج کے آئینی حق کو استعمال کریں گے اور مارچ کو پرامن رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں مقامی افراد نے قبر کھود کر بچوں اور بچیوں کی نعشیں نکالنے اور…
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پشاور…
نیو یارک میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کی، جس…
پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے ٹاؤن میں ایک خاتون نے مبینہ طور پر اپنی 13 سالہ بیٹی…
صوابی: خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ویئر ہاؤس سے 25 کروڑ…
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت کسی بھی صورت پی ٹی آئی کو اسلام…