گوگل نے اپنی نئی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کا تعارف کرایا ہے، جو ویب پر براؤزنگ کرنے کے لیے صارف کی طرح کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ ٹول، جسے پروجیکٹ مرینر کہا جاتا ہے، پہلے پروجیکٹ جاروس کے طور پر جانا جاتا تھا، اور ویب براؤزنگ کی 34 سالہ تاریخ میں ایک اہم تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس اپ ڈیٹ کا مقصد گوگل کا ایک ایسا اے آئی اسسٹنٹ تیار کرنا ہے جو صارفین کے روزمرہ کے کاموں میں مدد فراہم کرے۔
پروجیکٹ مرینر ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اسے گوگل کروم ویب براؤزر میں ایک تجرباتی ایکسٹینشن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ ٹول گوگل کی جیمنائی اے آئی کو استعمال کرتا ہے تاکہ ویب پر موجود معلومات کو تجزیہ کر کے کام انجام دے سکے۔
یہ ٹول ویب پیجز پر موجود امیجز، ٹیکسٹ اور فارمز کا تجزیہ کرتا ہے، اور خود بخود مطلوبہ جگہ پر ٹائپ یا کلک کر کے مطلوبہ کام مکمل کرتا ہے۔
اس وقت یہ ٹول صرف چند مخصوص ٹیسٹرز کے لیے دستیاب ہے، اور گوگل نے اعتراف کیا ہے کہ اس کا موجودہ ورژن انسانوں کے مقابلے میں سست اور مکمل طور پر قابل اعتماد نہیں ہے۔
اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ…
اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کی خبر نے دارالحکومت کی…
فرانسیسی پولیس نے منگل کے روز اُن چوروں کی تلاش تیز کر دی جنہوں نے لوور میوزیم سے قیمتی شاہی…
اسلام آباد (ایم وائے کے نیوز ٹی وی) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے…
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایک بڑے انکشاف میں بتایا ہے کہ پاکستان آئندہ دو ماہ میں توانائی کے…