Categories: کالم

افغان مہاجرین اور عام پاکستانی عوام

کالم: افغان مہاجرین اور عام پاکستانی عوام

کالم نگار: عمر فاروق

افغان مہاجرین کا مسئلہ جنوبی ایشیا کی تاریخ کے اہم ترین انسانی اور سیاسی بحرانوں میں شمار ہوتا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان شہری جنگ، بدامنی، غیر ملکی مداخلت اور داخلی خانہ جنگی کے باعث اپنے وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان، ان مہاجرین کی سب سے بڑی پناہ گاہ بنے۔ ابتدا میں پاکستانی عوام نے اسلامی اخوت اور انسانی ہمدردی کے تحت افغان مہاجرین کو خوش دلی سے قبول کیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ مسئلہ ایک پیچیدہ سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی بحران میں تبدیل ہوگیا۔

1979 میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد لاکھوں افغان شہری سرحد پار کرکے پاکستان آئے۔ اس دور میں پاکستان کی ریاستی پالیسی، خصوصاً فوج اور خفیہ اداروں کی حکمتِ عملی، افغان جہاد کے گرد گھومتی تھی۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کی مدد سے افغان مجاہدین کو تربیت، اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کی گئی۔ پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے افغان مہاجرین کیمپوں کو نہ صرف انسانی پناہ گاہوں بلکہ ایک “اسٹریٹیجک اثاثے” کے طور پر بھی استعمال کیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں انسانی بحران کو سیاسی اور عسکری مفادات سے جوڑ دیا گیا۔

اس پالیسی کے نتیجے میں افغان مہاجرین محض پناہ گزین نہیں رہے بلکہ علاقائی سیاست کا حصہ بن گئے۔ کئی دہائیوں تک افغان سرزمین پر اثر و رسوخ قائم رکھنے کی خواہش نے پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی کو اس نہج پر پہنچایا جہاں شدت پسندی، اسلحہ کلچر اور انتہا پسند تنظیموں کو بالواسطہ تقویت ملی۔ اس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ خود پاکستان نے بھی دہشت گردی، خودکش حملوں اور داخلی عدم استحکام کی صورت میں بھگتے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ آج وہی افغان مہاجرین، جنہیں کبھی “مجاہدین کے بھائی” کہا جاتا تھا، سیکیورٹی خطرہ قرار دیے جارہے ہیں۔ پاکستان میں آئے روز افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن، گرفتاریوں اور جبری بے دخلی کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ اگرچہ ریاست یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائی ضروری ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال کی بنیاد کس نے رکھی؟ دہائیوں تک غیر منظم مہاجر پالیسی، سرحدی نگرانی میں غفلت اور مخصوص گروہوں کی سرپرستی میں سیکیورٹی اداروں کا کردار کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ افغان مہاجرین کے مسئلے کو محض قانون و امان کا معاملہ بنا دینا ناانصافی ہے۔ ان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد وہ ہے جو جنگ، غربت اور سیاسی انتقام سے بچنے کے لیے پاکستان آئی۔ ان میں بچے، خواتین، مزدور اور عام شہری شامل ہیں جن کا دہشت گردی یا جرائم سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ریاستی بیانیے میں اکثر تمام افغان باشندوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جس سے نفرت اور تعصب کو فروغ ملتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس مسئلے کو انسانی حقوق اور علاقائی حقیقتوں کے تناظر میں دیکھے۔ سیکیورٹی اداروں کو بھی اپنی ماضی کی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ لینا ہوگا۔ افغان جنگوں میں مداخلت اور پراکسی پالیسیوں نے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیا۔ اگر آج پاکستان امن اور استحکام چاہتا ہے تو اسے افغان مہاجرین کے ساتھ عزت، انصاف اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق برتاؤ کرنا ہوگا، نہ کہ انہیں ہر مسئلے کا ذمہ دار ٹھہرا کر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جائے۔

افغان مہاجرین کا مسئلہ صرف سرحدوں کا نہیں بلکہ انسانی ضمیر کا امتحان بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ختم ہوجاتی ہیں، مگر ان کے زخم نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔

Nadeem Myk News

Recent Posts

کراچی؛ تین بوریوں میں بند لاش کے ٹکڑوں کی لرزہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں

کراچی: جھاڑیوں سے ٹکڑوں میں لاش برآمد، قتل کا مقدمہ درج کراچی کے علاقے ملیر سٹی میں باون شاہ مزار…

16 گھنٹے ago

ریلوے مسافروں کے لیے بڑی خوشخبری، شالیمار ایکسپریس ٹرین دوبارہ چلانے کا فیصلہ

لاہور: شالیمار ایکسپریس 14 اگست سے دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ سیلاب کے باعث لاہور اور کراچی کے درمیان گزشتہ…

16 گھنٹے ago

لاہور سے لاپتا ہونے والا 14 سالہ بچہ کراچی سے بحفاظت بازیاب

کراچی: لاہور سے لاپتہ 14 سالہ بچہ بحفاظت بازیاب لاہور سے لاپتہ ہونے والے 14 سالہ بچے فہیم کو کراچی…

16 گھنٹے ago

آسٹریلیا میں بھارت کو شکست، باسمتی چاول کے نام پر پاکستان کو بڑی قانونی فتح

باسمتی ورڈ مارک کیس: آسٹریلوی وفاقی عدالت نے بھارتی ادارے اپیڈا کی اپیل مسترد کردی آسٹریلوی وفاقی عدالت نے باسمتی…

16 گھنٹے ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کوالیفائر : سابق آسٹریلوی کرکٹر پرتگال کرکٹ ٹیم کے کپتان مقرر

سابق آسٹریلوی آل راؤنڈر موئسس ہنریکس پرتگال کرکٹ ٹیم کے کپتان مقرر سابق آسٹریلوی آل راؤنڈر موئسس ہنریکس کو ٹی…

17 گھنٹے ago

کرسٹیانو رونالڈو نے بالآخر اپنی دیرینہ ساتھی جارجینا روڈریگز سے شادی کرلی

کرسٹیانو رونالڈو اور جارجینا روڈریگز رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئے پرتگال سے تعلق رکھنے والے دنیائے فٹبال کے معروف کھلاڑی…

17 گھنٹے ago