خون کے دھبے اور گلیشیئر گرنے کا خطرہ: براڈ پیک پر 10 لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کا مشن کیسا تھا

براڈ پیک حادثہ: ہنزہ کے وقار علی نے ریسکیو آپریشن میں کیسے حصہ لیا؟

ہنزہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی کوہ پیما وقار علی اور نیپالی کوہ پیما سانوں شرپا 30 جولائی کو کے ٹو بیس کیمپ میں موجود تھے، جب براڈ پیک پر ایک بڑے برفانی تودے نے 10 کوہ پیماؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

یہ وہی دن تھا جب نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا سمیت 10 کوہ پیما دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک سر کرنے کے لیے کیمپ ون سے آگے بڑھ چکے تھے۔ ان میں ہنزہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی بھی شامل تھے۔

وقار علی نے صبح تقریباً 9 بجے سہیل سخی سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد، تقریباً 10 بجے، انہیں اطلاع ملی کہ براڈ پیک پر ایک بڑا برفانی تودہ گر گیا ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی وقار علی نے براڈ پیک پر موجود کوہ پیماؤں سے مختلف ذرائع کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم انہیں کامیابی نہ مل سکی۔

انہوں نے فوری طور پر حادثے کی اطلاع متاثرہ کوہ پیماؤں کے ٹور آپریٹرز کو دی اور فیصلہ کیا کہ وہ نیپالی کوہ پیما سانوں شرپا کے ہمراہ اگلی صبح براڈ پیک روانہ ہوں گے تاکہ ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا جاسکے۔

10 کوہ پیما برفانی تودے کی زد میں آگئے

30 جولائی کو براڈ پیک پر گرنے والے برفانی تودے نے معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا سمیت 10 کوہ پیماؤں کی جان لے لی۔ متاثرہ کوہ پیماؤں میں زیادہ تر نیپالی شہری تھے، جبکہ ایک پاکستانی، ایک امریکی، ایک عمانی اور ایک چینی شہری بھی اس مہم کا حصہ تھے۔

حادثے کے اگلے روز تلاش اور بچاؤ کا آپریشن شروع کیا گیا جو کئی دن تک جاری رہا۔ دشوار گزار پہاڑی علاقے، سخت موسمی حالات اور محدود رسائی کے باعث ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

موسم بہتر ہونے کے بعد براڈ پیک اور اس کے اطراف مختلف مقامات سے سات لاشیں اور باقیات برآمد کی گئیں، جنہیں پہلے سکردو اور بعدازاں اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ اسلام آباد سے انہیں متعلقہ ممالک روانہ کیا گیا۔

براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے لے کر لاشوں کی وطن واپسی تک جاری رہنے والے اس مشکل اور خطرناک ریسکیو آپریشن کو عالمی میڈیا میں بھی نمایاں کوریج ملی۔

اسی سلسلے میں بی بی سی نے اس دشوار گزار پہاڑ پر ہونے والے ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والے کوہ پیماؤں سے بات کی اور جاننے کی کوشش کی کہ حادثے کے بعد امدادی کارروائی کس طرح آگے بڑھی اور ریسکیو ٹیموں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

web

Recent Posts

اسحاق ڈار کا او آئی سی اجلاس سے خطاب، افغان سرزمین سے پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان سے کی…

3 دن ago

تحریک انصاف کا مجوزہ مارچ، پس پردہ رابطے اعتماد کے فقدان کو دور کرنے میں ناکام

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی…

4 دن ago

پشاور: بڈھ بیر میں قبریں کھود کر بچوں کی نعشیں نکالنے اور مبینہ بے حرمتی کرنے والا ملزم گرفتار کرلیا گیا۔

  پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں مقامی افراد نے قبر کھود کر بچوں اور بچیوں کی نعشیں نکالنے اور…

4 دن ago

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی و سرکاری/خصوصی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا استثنا معاہدہ طے پا گیا۔

  نیو یارک میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کی، جس…

4 دن ago

پشاور: خاتون کا 13 سالہ بیٹی کو مبینہ طور پر پھانسی دے کر قتل کرنے کا دعویٰ، پولیس نے گرفتار کرلیا

پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے ٹاؤن میں ایک خاتون نے مبینہ طور پر اپنی 13 سالہ بیٹی…

4 دن ago