لاہور میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ، تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آگئے
لاہور میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی تحقیقات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خصوصی رپورٹ تیار کرلی، جس میں وارداتوں کی منصوبہ بندی، ملزمان کی نقل و حرکت اور فائرنگ کے واقعات سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق ٹارگٹ کلرز ریحان، فیاض بٹ اور طارق نے شام 6 بج کر 38 منٹ پر بادامی باغ میں فائرنگ کی۔ پیشے خان چوک کے قریب ملزمان نے سب انسپکٹر اور کانسٹیبل کو فائرنگ کرکے شہید کیا، جبکہ حملے میں کلاشنکوف استعمال کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق واردات کے بعد ملزمان رکشے میں سوار ہوئے اور تقریباً 16 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے آگے بڑھے۔ ٹارگٹ کلرز رات 7 بج کر 59 منٹ اور 7 سیکنڈ پر ایک کالعدم تنظیم کے مرکز کے باہر پہنچے۔
پولیس کے مطابق باپ بیٹے سمیت تین ملزمان نے 7 بج کر 59 منٹ اور 27 سیکنڈ پر پیٹرول پمپ پر موجود کانسٹیبل کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ کانسٹیبل کے گرنے کے بعد ایک مسلح ٹارگٹ کلر نے اس پر مزید فائرنگ کی۔
رپورٹ کے مطابق ملتان روڈ سے فرار ہوتے ہوئے ٹارگٹ کلر ریحان نے رات 7 بج کر 59 منٹ اور 44 سیکنڈ پر سڑک پر ہوائی فائرنگ بھی کی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق رات 9 بج کر 3 منٹ پر ملزمان کے زیرِ استعمال گاڑی کی حتمی لوکیشن بھی ٹریک کرلی گئی۔
پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی وارداتیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے وقت اور مقامات پہلے سے طے کیے گئے تھے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ وہ ٹارگٹ کلرز کے نیٹ ورک کے قریب پہنچ چکے ہیں اور جلد اہم پیش رفت متوقع ہے۔













