راجپال یادیو کو مالی مشکلات کا سامنا، بینک نے آبائی جائیداد پر ضبطی کا نوٹس چسپاں کردیا
ممبئی: بالی وڈ اداکار راجپال یادیو کو اپنی پروڈکشن کمپنی کے غیر ادا شدہ قرض کی وصولی کے لیے سینٹرل بینک آف انڈیا کی جانب سے کارروائی شروع کیے جانے کے بعد ایک بار پھر مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بینک نے اتر پردیش میں اداکار کی آبائی جائیداد پر ضبطی کا نوٹس چسپاں کردیا ہے۔ نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر بقایا رقم ادا نہ کی گئی تو گروی رکھی گئی جائیدادوں کو نیلام کیا جاسکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق راجپال یادیو کے ذمے واجب الادا رقم بڑھ کر 16 کروڑ 61 لاکھ بھارتی روپے ہوچکی ہے۔ اگر 34 دن کے اندر رقم ادا نہ کی گئی تو بینک 9 ستمبر کو مقررہ آن لائن نیلامی کے عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق نوٹس ضلع شاہجہانپور کے گاؤں کندرا میں واقع راجپال یادیو کی آبائی رہائش گاہ پر چسپاں کیا گیا ہے، جبکہ شاہجہانپور میں موجود ان کی ایک اور جائیداد بھی وصولی کی کارروائی میں شامل ہے۔
دونوں جائیدادوں کی مجموعی مالیت تقریباً 3.19 کروڑ بھارتی روپے بتائی گئی ہے، جبکہ بینک کو اس سے کہیں زیادہ رقم کی وصولی کرنا ہے۔
بینک کے نوٹس کے مطابق مذکورہ جائیدادیں قرض کے عوض گروی رکھی گئی تھیں اور واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں ای نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جاسکتا ہے۔
تاہم نوٹس چسپاں ہونے کے باوجود راجپال یادیو کے خاندان کا کہنا ہے کہ بینک حکام کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔
قرض کیسے بڑھ کر 16 کروڑ سے زائد ہوگیا؟
رپورٹس کے مطابق راجپال یادیو نے 2005 میں اپنے والدین کے نام پر نورنگ گوداوری انٹرٹینمنٹ لمیٹڈ قائم کی تھی۔ بعد ازاں بطور ہدایت کار اپنی پہلی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ بنانے کے لیے سینٹرل بینک آف انڈیا سے تقریباً 5 کروڑ بھارتی روپے کا قرض حاصل کیا۔
فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہوسکی، جس کے باعث قرض کی ادائیگی میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ سود اور دیگر چارجز شامل ہونے سے واجب الادا رقم بڑھ کر تقریباً 16.61 کروڑ بھارتی روپے ہوگئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب راجپال یادیو پہلے ہی اسی قرض سے متعلق چیک باؤنس کے ایک پرانے مقدمے میں قانونی مشکلات کا سامنا کرچکے ہیں۔










