جائیداد ٹرانسفر پر 3 سے 7 فیصد تک ڈیوٹی ٹیکس کا نیا نظام نافذ،نوٹیفکیشن جاری

ایف بی آر نے فیڈرل ایکسائز رولز 2005 میں ترامیم کرتے ہوئے ڈیولپرز اور بلڈرز کی تعریف متعین کی ہے

جائیداد ٹرانسفر پر 3 سے 7 فیصد تک ڈیوٹی ٹیکس کا نیا نظام نافذ،نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جائیداد کی فروخت اور ٹرانسفر پر عائد ٹیکس اور ڈیوٹی کے حوالے سے نئے طریقہ کار کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن ایس آر او 1376 کے تحت 2024 میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی وصولی اور ادائیگی کے لیے ایک تفصیلی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی کمپیوٹرائزڈ ادائیگی کی رسید (سی پی آر ایف ای) کے ذریعے ادائیگی کا نظام بھی متعارف کروایا گیا ہے۔ایف بی آر نے فیڈرل ایکسائز رولز 2005 میں ترامیم کرتے ہوئے ڈیولپرز اور بلڈرز کی تعریف متعین کی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیولپر وہ شخص یا ادارہ ہوگا جو زمین کو رہائشی یا کمرشل پلاٹوں میں تبدیل کرکے فروخت کرتا ہے۔ اس میں ہاؤسنگ سوسائٹیز، کوآپریٹو سوسائٹیز اور ترقیاتی ادارے شامل ہیں۔

بلڈرز کے لیے یہ وضاحت دی گئی ہے کہ وہ وہ شخص ہے جو فروخت کے مقصد سے رہائشی یا تجارتی عمارتیں تعمیر کرتا ہے۔ڈیوٹی جمع کرنے کے طریقہ کار کے تحت، اگر جائیداد کا خریدار فائلر ہو تو تجارتی یا رہائشی جائیداد کی پہلی الاٹمنٹ یا منتقلی پر مجموعی رقم کا 3 فیصد ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔ اگر خریدار فائلر نہیں ہے یا مقررہ تاریخ تک انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس پر ڈیوٹی کی شرح 5 فیصد ہو جائے گی، اور اگر خریدار نان فائلر ہو تو اسے مجموعی قیمت کا 7 فیصد ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی

ڈیولپرز یا بلڈرز کو اس ڈیوٹی کی وصولی کے بعد کمپیوٹرائزڈ ادائیگی کی رسید یا سویپس ادائیگی کا استعمال کرتے ہوئے اسی دن وفاقی حکومت کو ڈیوٹی جمع کروانا ہوگی۔ علاوہ ازیں، ڈیولپرز یا بلڈرز کو ہر ماہ کمشنر کو فارم بی کے مطابق ماہانہ اسٹیٹمنٹ بھی جمع کرانی ہوگی۔اگر ڈیوٹی کی عدم ادائیگی یا کم ادائیگی کی صورت میں مقررہ افسر سرچارج عائد کرے گا، جو واجب الادا رقم پر لاگو ہوگا۔ اگر ڈیولپر یا بلڈر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو کہ جائیداد کے خریدار نے ڈیوٹی ادا کر دی ہے، تو اس سے کوئی اضافی رقم وصول نہیں کی جائے گی۔

تاہم، ڈیوٹی کی عدم وصولی کی صورت میں ڈیولپر یا بلڈر کو سرچارج ادا کرنا ہوگا، جو اس دن سے لاگو ہوگا جب ڈیوٹی وصولی میں ناکامی ہوئی اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ڈیوٹی ادا نہیں کی جاتی۔یہ نیا نظام شفافیت کو بڑھانے اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے متعارف کروایا گیا ہے، تاکہ جائیداد کی خرید و فروخت میں ہونے والے ٹیکس کی وصولی کو مؤثر بنایا جا سکے

web

Recent Posts

نو مئی ،شہر میں توڑ پھوڑ کے کیسز میں ایک بار پھر کریک ڈاون کا فیصلہ

لاہور میں 9 مئی اور توڑ پھوڑ کے مقدمات، 4 ہزار سے زائد نامعلوم ملزمان کی گرفتاری کیلئے کریک ڈاؤن…

1 دن ago

بچے سے بدفعلی کی کوشش، برکی پولیس نے 2 ملزمان گرفتار کرلیے

برکی پولیس کی کارروائی، بچے کے ساتھ مبینہ بدفعلی کی کوشش کرنے والے 2 ملزمان گرفتار برکی پولیس نے کارروائی…

1 دن ago

جائیداد کے تنازع پر باپ کو قتل کرنے والا بیٹا گرفتار

عرفان ملک: لاہور کے علاقے شالیمار میں جائیداد سے عاق کیے جانے پر بیٹے نے مبینہ طور پر باپ پر…

1 دن ago

خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کے بعد کمی

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی، امریکی خام تیل 1.51 فیصد سستا عالمی مارکیٹ میں امریکی خام…

1 دن ago

مرغی کا گوشت سرکاری ریٹ سے مہنگا فروخت ہونے لگا، شہری پریشان

ابوبکر ارشاد: شہر میں مرغی کا گوشت سرکاری نرخ سے زائد قیمت پر فروخت ہونے لگا، شہریوں کو مشکلات کا…

1 دن ago

10 سال بعد زمین کے معاہدے کا دعویٰ ناقابل سماعت قرار

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے 10 سال بعد دائر کیا گیا زمین کی فروخت کے معاہدے پر عملدرآمد کا دعویٰ…

1 دن ago