مخصوص نشستیں،سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

سپریم کورٹ کے 8 ججز نے اپنے فیصلے میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان کے اختلافی نوٹ پر تحفظات کا اظہار کیا

مخصوص نشستیں،سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے اور اس کی کوئی آئینی حیثیت نہیں۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ باقی 41 ایم این ایز کے 15 روز کے اندر دستخط شدہ بیانات لے اور مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کو نوٹیفائی کرے۔

تفصیل کے مطابق سپریم کورٹ کے 8 ججز نے اپنے فیصلے میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان کے اختلافی نوٹ پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں ججز نے 12 جولائی کے اکثریتی فیصلے کو آئین سے متصادم قرار دیا، جس انداز میں انہوں نے اختلاف کیا وہ مناسب نہیں تھا۔ مخصوص نشستوں سے متعلق یہ تفصیلی فیصلہ 70 صفحات پر مشتمل ہے، جسے جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے۔

عدالت نے مزید ہدایت کی کہ اس فیصلے کا اردو ترجمہ بھی کیا جائے اور اسے کیس کے ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے ساتھ ہی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کیا جائے۔ فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے رہی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ الیکشن کے دوران سب سے بڑا اسٹیک عوام کا ہوتا ہے اور انتخابی تنازعہ دیگر سول تنازعات سے مختلف نوعیت کا ہوتا ہے۔

عدالت نے تحریک انصاف کے دعوے کا بھی ذکر کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ آزاد امیدوار بھی پی ٹی آئی کے امیدوار تھے اور ووٹرز نے انہیں اس بنیاد پر ووٹ دیا کہ وہ تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے یکم مارچ کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور وہ آئین سے متصادم ہے۔

تفصیلی فیصلے میں 8 ججز نے سپریم کورٹ کے دو ججز کی 12 جولائی کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دینے پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان کا عمل سپریم کورٹ کے ججز کے منصب کے منافی ہے۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے جس نے 2024 کے عام انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں جیتی ہیں۔

فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے کیے گئے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ انتخابی نشان کی عدم فراہمی سے کسی سیاسی جماعت کے انتخابات میں حصہ لینے کے قانونی حق پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ آئین یا قانون ایسی کسی رکاوٹ کی اجازت نہیں دیتا جو سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے سے روکے۔

web

Recent Posts

بولیویا میں مالک کی موت کے بعد 8 سال سے اسپتال کے باہر موجود مرغا توجہ کا مرکز بن گیا

  عام طور پر کتوں کو وفاداری کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن جنوبی امریکی ملک بولیویا میں ایک مرغے…

2 دن ago

لاہور میں انسولین کے بعد انفلوئنزا ویکسین کی بھی قلت، قیمت میں 440 روپے اضافہ

  لاہور میں انسولین کے بعد انفلوئنزا (فلو) سے بچاؤ کی ویکسین بھی مارکیٹ سے غائب ہوگئی، جبکہ دستیاب ویکسین…

2 دن ago

جنوبی افریقا نے دنیا کی سب سے طویل مال گاڑی چلانے کا نیا ریکارڈ قائم کردیا

  کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی سب سے طویل ٹرین کس ملک سے تعلق رکھتی ہے؟ جنوبی افریقا…

2 دن ago

ایپل کی جانب سے آئی فون 18 اور آئی فون ایئر 2 کو 2027 میں متعارف کرانے کا امکان

  ایپل نے رواں سال اسٹینڈرڈ آئی فون 18 اور آئی فون ایئر 2 متعارف نہیں کرائے، تاہم نئی لیک…

2 دن ago

ملتان: 15 سالہ وسیم عباس کی کار سے کچلے جانے کے بعد غیر رجسٹرڈ یتیم خانے کے خلاف کارروائی

ملتان: 15 سالہ وسیم عباس کی کار سے کچلے جانے کے بعد غیر رجسٹرڈ یتیم خانے کے خلاف کارروائی ملتان…

2 دن ago

کراچی: ایچ آئی وی سے متاثرہ 157 بچوں کی ماؤں کو ماہانہ 40 ہزار روپے امداد دینے کا عمل شروع

کراچی: ایچ آئی وی سے متاثرہ 157 بچوں کی ماؤں کو ماہانہ 40 ہزار روپے امداد دینے کا عمل شروع…

2 دن ago