جسٹس منیب اختر کی برطرفی پر جسٹس منصور کا احتجاج
جسٹس منیب اختر کی برطرفی پر جسٹس منصور کا احتجاج
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے سیکرٹری سپریم کورٹ کمیٹی کو ایک خط لکھ کر ترمیمی آرڈیننس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی دوبارہ تشکیل کے عمل پر سوالات اٹھائے ہیں، جو آرڈیننس کے اجراء کے چند گھنٹوں بعد انجام دی گئی تھی۔
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں کہا ہے کہ سینئر ترین ججز کو کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے تھی، تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے خاص طور پر جسٹس منیب اختر کو کمیٹی سے ہٹانے کے عمل پر تنقید کی اور کہا کہ اس فیصلے کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی میں اپنی مرضی کا ممبر شامل کرکے من پسند فیصلے کیے جا رہے ہیں، جو جمہوری اصولوں کے برعکس اور "ون مین شو” کے مترادف ہیں۔
خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی ذات میں انتظامی معاملات کا ارتکاز ایک غیر جمہوری عمل ہے اور عدالتی شفافیت کے اصول کے خلاف ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس کی جانب سے کمیٹی کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدلیہ کی خودمختاری کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
واضح رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں شرکت نہیں کی اور اس آرڈیننس پر اپنے تحفظات کی بنیاد پر اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتی امور میں شفافیت اور جمہوری رویے کی پیروی ہونی چاہیے، اور انتظامی اختیارات کی مرکزیت سے بچنا ضروری ہے۔
لاہور کے اقبال ٹاؤن میں آوارہ کتے نے حملہ کرکے میو اسپتال کے ڈاکٹر نعمان کو زخمی کردیا۔ ترجمان…
آزاد جموں و کشمیر پولیس نے کوٹلی میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 8 مسلح کارندوں کو گرفتار…
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا غیر…
پاکستان کے شوٹر جی ایم بشیر نے ایشین گیمز 2026 کے شوٹنگ مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے…
واٹس ایپ نے کم عمر صارفین کے تحفظ اور انہیں عمر کے مطابق محفوظ تجربہ فراہم کرنے کے لیے…
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک کے تمام معاشی اشاریے…