رانا ثناء اللہ نے محسن نقوی کے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں سے متعلق بیان کو "سمجھ سے بالاتر” قرار دیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ انہوں نے محسن نقوی کی تقریر سنی، لیکن انہیں واضح نہیں ہوا کہ وہ کیا کہنا چاہتے تھے، اور ان کے مطابق بیان میں تسلسل بھی نظر نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ایسا بیان دیتا ہے تو وہ اس کی ذاتی رائے ہوتی ہے، اور محسن نقوی کو خود وضاحت کرنی چاہیے کہ ان کے بیان سے کیا مراد تھی۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا طریقۂ کار آئین میں موجود ہے اور اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 2013 سے 2018 کے دوران پنجاب حکومت نے نئے صوبوں سے متعلق قرارداد پیش کی تھی، اور وہ خود اس قرارداد اور کمیشن کی تجویز پیش کرنے والوں میں شامل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کا قیام ایک پیچیدہ آئینی اور انتظامی معاملہ ہے، جس کے لیے قومی کمیشن، فنڈز، اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سمیت سینیٹ کی نشستوں جیسے امور پر تفصیلی مشاورت ضروری ہے۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ چھوٹے صوبے، مضبوط بلدیاتی نظام، یا دونوں ممکن ہیں، تاہم اس کا فیصلہ سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کو کرنا ہوگا۔













