یہ راکٹ امریکی کمپنی Firefly Aerospace کے Blue Ghost لینڈر اور جاپانی کمپنی ispace کے Hakuto-R Mission 2 لینڈر کو خلا میں لے کر گیا تھا۔ اپنا کام مکمل کرنے کے بعد راکٹ کا دوسرا حصہ خلا میں بے قابو حالت میں گردش کرتا رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ حصہ تقریباً 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ (5,400 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے چاند کے Einstein Crater کے قریب جا ٹکرایا، جس سے ایک نیا گڑھا (crater) بننے کی توقع ہے۔ چونکہ تصادم چاند کے ایسے حصے پر ہوا جہاں سے براہِ راست مشاہدہ مشکل تھا، اس لیے سائنس دان مدار میں موجود خلائی جہازوں اور دوربینوں سے حاصل ہونے والی تصاویر اور دیگر ڈیٹا کا تجزیہ کر کے تصدیق کریں گے۔ اس واقعے سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں، لیکن یہ خلائی ملبے (space debris) کے بہتر انتظام کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے اور سائنس دانوں کو چاند کی سطح اور تصادم کے اثرات کا مطالعہ کرنے کا ایک منفرد موقع بھی فراہم کرتا ہے۔













