گلگت بلتستان: دریائے سندھ میں زرعی زمین کے کٹاؤ پر مقامی افراد پریشان
گلگت بلتستان: پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ میں دریائے سندھ کے کنارے واقع زرعی زمین کے تیزی سے دریا برد ہونے پر مقامی افراد میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
ضلع ہنزہ کی تحصیل ناصر آباد کے علاقے شینا سے تعلق رکھنے والے باقر حسین کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی کا انحصار باغات اور کھیتی باڑی پر ہے، تاہم گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ان کی زیرِ کاشت زمین تیزی سے دریائے سندھ کی نذر ہو رہی ہے۔
باقر کے مطابق دریائے سندھ کے کناروں پر دریائی مٹی سے سونا نکالنے کے لیے ہیوی مشینری کے استعمال میں اضافے کے بعد زمین کے کٹاؤ میں نمایاں تیزی آئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اپنی زیرِ کاشت زمین کی حدود متعین کرنے کے لیے انہوں نے جو پتھر بطور باؤنڈری نصب کیے تھے، وہ جگہ اب دریا برد ہوچکی ہے۔
باقر کے بقول، ”اب ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دریائے سندھ کا پانی روزانہ ہماری زمین کا کچھ نہ کچھ حصہ بہا کر اپنے ساتھ لے جا رہا ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ صورتحال ان کے لیے اس لیے بھی تشویش ناک ہے کیونکہ ان کے خاندان کی روزمرہ ضروریات اسی زمین سے ہونے والی کاشت سے پوری ہوتی ہیں۔
باقر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر متعلقہ اداروں کو درخواستیں بھی دیں، تاہم تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
شینا کے رہائشی سونے کی مائننگ کے خلاف سراپا احتجاج
مقامی رہائشیوں کے مطابق تحصیل ناصر آباد کے علاقے شینا میں دریائے سندھ کے کناروں پر سونے کی تلاش کے لیے ہیوی مشینری کا استعمال کوئی نیا مسئلہ نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کے کناروں پر سونے کی تلاش کے لیے ہیوی مشینری کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ہی مقامی آبادی کو درپیش مسائل بھی بڑھتے گئے ہیں۔
اب صورتحال یہ ہے کہ شینا کے رہائشی مقامی ویلیج کونسل کی سربراہی میں دریائے سندھ کے کنارے ہونے والی سونے کی مائننگ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
ویلیج کونسل کے صدر ممتاز علی نے بی بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ہیوی مشینری کے استعمال اور دریائی کٹاؤ کے باعث اب تک مقامی افراد کی کم از کم 40 کنال قابلِ کاشت زمین دریا برد ہوچکی ہے۔
مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ دریائے سندھ کے کناروں پر سونے کی مائننگ اور ہیوی مشینری کے استعمال سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی اور زرعی اثرات کا جائزہ لیا جائے اور ان کی زمینوں کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔