اسلام آباد: پاکستان نے بین الاقوامی تیل فراہم کرنے والوں کو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرکے کسٹمز باؤنڈڈ اسٹوریج میں رکھنے، مقامی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کو فروخت کرنے یا دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت دینے کے لیے نیا پالیسی فریم ورک متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا۔
نئے پالیسی فریم ورک کا مقصد غیر ملکی تیل سپلائرز کو پاکستان کی مارکیٹ کی جانب راغب کرنا اور ملک کے توانائی کے سکیورٹی بفر کو مضبوط بنانا ہے۔
کسٹمز باؤنڈڈ اسٹوریج کے ذریعے درآمدی پالیسی 2026 کے تحت غیر ملکی سپلائرز کے لیے نئے ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں۔ گائیڈ لائنز کے مطابق بین الاقوامی سپلائرز ملکی ڈیوٹیز اور ٹیکسز فوری طور پر ادا کیے بغیر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کا اسٹاک برقرار رکھ سکیں گے۔
نئے فریم ورک کے تحت سپلائرز کو یہ لچک بھی حاصل ہوگی کہ وہ اپنی مصنوعات مقامی مارکیٹ میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کو فراہم کریں یا ضرورت کے مطابق انہیں دوبارہ برآمد کرسکیں۔
حکام کے مطابق پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان میں تیل کی دستیابی کو مستحکم کرنا، سپلائی کے متبادل ذرائع پیدا کرنا اور توانائی کے شعبے میں ملک کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ویڈیو: میلان ایئرپورٹ پر گاڑی نجی طیارے سے ٹکرا گئی، فضائی آپریشن متاثر میلان: اٹلی کے شہر میلان کے لیناتے…
یوٹیوب سے کمائی مزید مشکل، پارٹنر پروگرام کی شرائط سخت کرنے کا فیصلہ دنیا بھر میں اضافی آمدنی کے لیے…
شام کی عدالت کا مفرور سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت کا حکم دمشق: شام کی عدالت نے مفرور…
برطانیہ میں گرمی کی پانچویں لہر، درجہ حرارت 35 ڈگری سے تجاوز کرگیا لندن: برطانیہ میں گرمی کی پانچویں لہر…
رونالڈو کی شادی کی افواہ، سیکڑوں مداح چرچ کے باہر پہنچ گئے، فٹبالر کا دلچسپ ردِعمل لزبن: پرتگال کے معروف…
کراچی کے ٹاپ سرکاری کالجوں میں 93 فیصد طلبہ نجی اسکولوں سے، سرکاری اسکولوں کا حصہ صرف 7 فیصد کراچی:…